تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانشقاق (84) — آیت 1

اِذَا السَّمَآءُ انۡشَقَّتۡ ۙ﴿۱﴾
جب آسمان پھٹ جائے گا ۔ En
جب آسمان پھٹ جائے گا
En
جب آسمان پھٹ جائے گا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

قیامت کے دن بڑے بڑے اجرام فلکی میں جو تغیرات آئیں گے، اللہ تعالیٰ نے ان کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے: ﴿اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْ یعنی جب آسمان پھٹ جائے گا اور پھٹ کر ایک دوسرے سے الگ ہو جائے گا، اس کے ستارے بکھر جائیں گے اور اس کے سورج اور چاند بے نور ہو جائیں گے۔ ﴿وَاَذِنَتْ لِرَبِّهَا اور وہ اپنے رب کے حکم کو غور سے سنے گا، اس پر کان لگائے گا اور اس کے خطاب کو سنے گا اور اس پر لازم بھی یہی ہے کیونکہ وہ اس عظیم بادشاہ کے دست تسخیر کے تحت مسخر اور مدبر ہے جس کے حکم کی نافرمانی کی جا سکتی ہے نہ اس کے فیصلے کی مخالفت۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى مبيِّناً لما يكون في يوم القيامة من تغيُّر الأجرام العظام: {إذا السماء انشقَّتْ}؛ أي: انفطرت وتمايز بعضها من بعض، وانتثرت نجومُها، وخسف شمسُها وقمرها، {وأذِنَتْ لربِّها}؛ أي: استمعت لأمره وألقت سمعَها وأصاخت لخطابه، أي: حُقَّ لها ذلك؛ فإنَّها مسخَّرة مدبَّرة تحت مسخِّر ملكٍ عظيمٍ لا يُعصى أمره ولا يخالَف حكمُه.