تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المطففين (83) — آیت 7

کَلَّاۤ اِنَّ کِتٰبَ الۡفُجَّارِ لَفِیۡ سِجِّیۡنٍ ؕ﴿۷﴾
ہرگز نہیں، بے شک نافرمان لوگوں کا اعمال نامہ یقینا دائمی سخت قید کے دفتر میں ہے ۔ En
سن رکھو کہ بدکارروں کے اعمال سجّین میں ہیں
En
یقیناً بدکاروں کا نامہٴ اعمال سِجِّينٌ میں ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الْفُجَّارِ ہرگز نہیں! بدکاروں کے اعمال یہ آیت کریمہ کفار، منافقین اور فاسقین کے مختلف انواع کے تمام فاجروں کو شامل ہے ﴿ لَ٘فِیْ سِجِّیْنٍ سِجِّین میں ہیں۔ پھر اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کی تفسیر فرمائی ﴿ وَمَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سِجِّیْنٌؕ۰۰ كِتٰبٌ مَّرْقُ٘وْمٌ تجھے کس چیز نے بتایا کہ سجین کیا ہے۔ لکھی ہوئی کتاب ہے یعنی وہ کتاب جس میں ان کے اعمال خبیثہ مذکور ہیں۔ اَلسِّجِّینُ سے مراد تنگ جگہ ہے اور سِجِّین، عِلِّیِّین کی ضد ہے جو کہ ابرار کی کتاب کا محل و مقام ہے، جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں آئے گا۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سَجِّین ساتویں زمین کا سب سے نچلا حصہ ہے جو کہ معاد میں فجار کا مستقر اور ٹھکانا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى: {كلاَّ إنَّ كتاب الفجَّارِ}: وهذا شاملٌ لكلِّ فاجرٍ من أنواع الكفرة والمنافقين والفاسقين، {لفي سِجِّينٍ}. ثم فسَّر ذلك بقوله: {وما أدراكَ ما سِجِّينٌ. كتابٌ مرقومٌ}؛ أي: كتاب مذكور فيه أعمالهم الخبيثة. والسِّجِّينُ: المحلُّ الضيِّق الضَّنك، وسِجِّين ضدّ علِّيين، الذي هو محلُّ كتاب الأبرار كما سيأتي. وقد قيل: إنَّ سجِّين هو أسفل الأرض السابعة مأوى الفجَّار ومستقرُّهم في معادهم.