تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ نے پیچھے ہٹنے والے ستاروں کی قسم کھائی ہے ﴿ بِالْ٘خُنَّ٘سِ﴾ اس سے مراد وہ ستارے ہیں جو مشرق کی جہت میں، کواکب کی عادی رفتار سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور ہفت سیارگان یہ ہیں: سورج، چاند، زہرہ، مشتری، مریخ، زحل اور عطارد۔ ان ساتوں سیاروں کاچلنا دو جہتوں میں ہے۔ ایک چلنا مغرب کی جہت میں تمام کواکب اور فلک کے ساتھ اورایک چلنا اس جہت کے برعکس مشرق کی جہت میں، یہ چلنا صرف انھی سات سیاروں کے ساتھ مختص ہے۔
پس اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کے پیچھے ہٹنے کے حال میں، ان کے چلنے اور ان کے چھپ جانے یعنی دن کے وقت مستور ہونے کے حال کی قسم کھائی ہے اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد تمام کواکب اور سیارے وغیرہ ہوں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أقسم تعالى {بالخُنَّسِ}: وهي الكواكب التي تخنس؛ أي: تتأخَّر عن سير الكواكب المعتاد إلى جهة المشرق، وهي النجوم السبعة السيَّارة؛ الشمس والقمر والزُّهرة والمشتري والمريخ وزُحل وعطارد؛ فهذه السبعة لها سيران: سيرٌ إلى جهة المغرب مع سائر الكواكب والفلك. وسير معاكسٌ لهذا من جهة المشرق تختصُّ به هذه السبعة دون غيرها، فأقسم الله بها في حال خنوسها؛ أي: تأخُّرها، وفي حال جريانها، وفي حال كُنوسها؛ أي: استتارها بالنهار. ويُحتمل أنَّ المراد بها جميع الكواكب السيَّارة وغيرها.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔