تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنفال (8) — آیت 75

وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡۢ بَعۡدُ وَ ہَاجَرُوۡا وَ جٰہَدُوۡا مَعَکُمۡ فَاُولٰٓئِکَ مِنۡکُمۡ ؕ وَ اُولُوا الۡاَرۡحَامِ بَعۡضُہُمۡ اَوۡلٰی بِبَعۡضٍ فِیۡ کِتٰبِ اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿٪۷۵﴾
اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور ہجرت کی اور تمھارے ساتھ مل کر جہاد کیا تو وہ تم ہی سے ہیں، اور رشتے دار اللہ کی کتاب میں، ان کے بعض، بعض کے زیادہ حق دار ہیں۔ بے شک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔ En
اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کرگئے اور تمہارے ساتھ ہو کر جہاد کرتے رہے وہ بھی تم ہی میں سے ہیں۔ اور رشتہ دار خدا کے حکم کی رو سے ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ خدا ہر چیز سے واقف ہے
En
اور جو لوگ اس کے بعد ایمان ﻻئے اور ہجرت کی اور تمہارے ساتھ ہو کر جہاد کیا۔ پس یہ لوگ بھی تم میں سے ہی ہیں اور رشتے ناتے والے ان میں سے بعض بعض سے زیاده نزدیک ہیں اللہ کے حکم میں، بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز کا جاننے واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اسی طرح جو لوگ ان مہاجرین و انصار کے بعد آئیں، نیکیوں میں ان کی اتباع کریں، ایمان لائیں، ہجرت کریں اور اللہ کے راستے میں جہاد کریں ﴿فَاُولٰٓىِٕكَ مِنْكُمْ پس وہ لوگ تم ہی میں سے ہیں ان کے وہی حقوق ہیں جو تمھارے حقوق ہیں اور ان کے ذمے وہی فرائض ہیں جو تمھارے ذمے ہیں۔ ایمان پر مبنی یہ موالات اسلام کے ابتدائی زمانے میں تھی ... اس کی بہت بڑی وقعت اور عظیم شان ہے۔ حتی کہ نبی مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین و انصار کے درمیان جو اخوت قائم کی تھی، وہ خاص اخوت تھی۔ جو اخوت عامہ و ایمانیہ کے علاوہ ہے، حتیٰ کہ وہ ایک دوسرے کے وارث بھی بنے۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرما دی۔ ﴿ وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُ٘هُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْؔ كِتٰبِ اللّٰهِ اور رشتے دار آپس میں زیادہ حق دار ہیں ایک دوسرے کے، اللہ کے حکم میں اس لیے میت کی وراثت صرف انھی لوگوں کو ملے گی جو اصحاب الفروض ہیں یا وہ میت کا عصبہ ہیں۔ اگر میت کا عصبہ اور اصحاب الفروض موجود نہ ہوں تو ذوالارحام میں سے وہ لوگ وارث بنیں گے جو رشتہ میں میت کے سب سے زیادہ قریب ہیں جیسا کہ آیت کریمہ کا عموم دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فِیْؔ كِتٰبِ اللّٰهِ اللہ کی کتاب میں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی کتاب میں۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ بِكُ٘لِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ کچھ شک نہیں کہ اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔ اس کے احاطہ علم میں تمھارے احوال بھی شامل ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی مناسبت سے تم پر دینی اور شرعی احکام جاری کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وكذلك مَن جاء بعد هؤلاء المهاجرين والأنصار ممَّن اتَّبعهم بإحسان فآمن وهاجر وجاهد في سبيل الله. {فأولئك منكم}: لهم ما لكم وعليهم ما عليكم؛ فهذه الموالاة الإيمانية، وقد كانت في أول الإسلام لها وقع كبيرٌ وشأنٌ عظيم، حتى إنَّ النبيَّ - صلى الله عليه وسلم - آخى بين المهاجرين والأنصار أخوَّة خاصَّة غير الأخوة الإيمانية العامة، وحتى كانوا يتوارثون بها، فأنزل الله: {وأولو الأرحام بعضُهم أولى ببعض في كتاب الله} فلا يرثه إلا أقاربه من العصبات وأصحاب الفروض فإن لم يكونوا؛ فأقرب قراباته من ذوي الأرحام كما دلَّ عليه عموم الآية الكريمة، وقوله: {في كتاب الله}؛ أي: في حكمه وشرعه. {إنَّ الله بكلِّ شيء عليمٌ}: ومنه ما يعلمه من أحوالكم التي يجري من شرائعه الدينية عليكم ما يناسبها.