تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنفال (8) — آیت 7

وَ اِذۡ یَعِدُکُمُ اللّٰہُ اِحۡدَی الطَّآئِفَتَیۡنِ اَنَّہَا لَکُمۡ وَ تَوَدُّوۡنَ اَنَّ غَیۡرَ ذَاتِ الشَّوۡکَۃِ تَکُوۡنُ لَکُمۡ وَ یُرِیۡدُ اللّٰہُ اَنۡ یُّحِقَّ الۡحَقَّ بِکَلِمٰتِہٖ وَ یَقۡطَعَ دَابِرَ الۡکٰفِرِیۡنَ ۙ﴿۷﴾
اور جب اللہ تم سے دو گروہوں میں سے ایک کا وعدہ کر رہا تھا کہ وہ تمھارے لیے ہو گا اور تم چاہتے تھے کہ جو کانٹے والا نہیں وہ تمھیں مل جائے اور اللہ چاہتا تھا کہ حق کو اپنی باتوں کے ساتھ سچا کر دے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے۔ En
اور (اس وقت کو یاد کرو) جب خدا تم سے وعدہ کرتا تھا کہ (ابوسفیان اور ابوجہل کے) دو گروہوں میں سے ایک گروہ تمہارا (مسخر) ہوجائے گا۔ اور تم چاہتے تھے کہ جو قافلہ بے (شان و) شوکت (یعنی بے ہتھیار ہے) وہ تمہارے ہاتھ آجائے اور خدا چاہتا تھا کہ اپنے فرمان سے حق کو قائم رکھے اور کافروں کی جڑ کاٹ کر (پھینک) دے
En
اور تم لوگ اس وقت کو یاد کرو! جب کہ اللہ تم سے ان دو جماعتوں میں سے ایک کا وعده کرتا تھا کہ وه تمہارے ہاتھ آجائے گی اور تم اس تمنا میں تھے کہ غیر مسلح جماعت تمہارے ہاتھ آجائے اور اللہ تعالیٰ کو یہ منظور تھا کہ اپنے احکام سے حق کا حق ہونا ﺛابت کردے اور ان کافروں کی جڑ کاٹ دے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

ان کا مدینہ منورہ سے باہر نکلنے کا اصل مقصد تو اس تجارتی قافلے کا راستہ روکنا تھا جو ابوسفیان کی قیادت میں قریش کا سامان تجارت لے کر شام گیا تھا، یہ ایک بہت بڑا قافلہ تھا۔ جب مسلمانوں کو قریش کے قافلے کی واپسی کی اطلاع ملی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قافلے کو روکنے کے لیے مسلمانوں کو اکٹھا کیا چنانچہ آپ کے ساتھ تین سو سے کچھ زائد مسلمان مدینہ منورہ سے نکلے۔ ستر اونٹوں کے ساتھ، جن پر وہ باری باری سوار ہوتے تھے اور ان پر انھوں نے اپنا سامان لادا ہوا تھا۔ قریش کو بھی مسلمانوں کے باہر نکلنے کی خبر پہنچ گئی، وہ اپنے تجارتی قافلے کو بچانے کے لیے کثیر تعداد میں جنگی ساز و سامان کی پوری تیاری، گھوڑ سواروں اور پیادوں کے ساتھ مکہ سے نکلے۔ ان کی تعداد تقریباً ایک ہزار تھی۔
اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے ساتھ وعدہ فرمایا تھا کہ وہ ان دونوں گروہوں، یعنی قافلہ یا فوج، میں سے ایک کے مقابلے میں ان کو فتح سے نوازے گا۔ مسلمانوں نے اپنی تنگ دستی کی وجہ سے قافلے کے ملنے کو پسند کیا۔ نیز قافلہ والوں کے پاس طاقت بھی زیادہ نہیں تھی مگر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے لیے اس امر کو پسند کیا جو اس سے اعلیٰ و افضل تھا جسے مسلمان پسند کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ وہ کفار کی فوج کے مقابلے میں ظفریاب ہوں جس کے اندر کفار کے بڑے سردار اور بہادر شہسوار لڑنے کے لیے آئے تھے۔
﴿ وَیُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمٰؔتِهٖ اور اللہ چاہتا تھا کہ سچا کر دے حق کو اپنے کلمات سے پس اس طرح وہ اہل حق کی مدد فرماتا ہے ﴿ وَیَقْ٘طَعَ دَابِرَ الْ٘كٰفِرِیْنَ اور کاٹ ڈالے جڑ کافروں کی یعنی وہ اہل باطل کا استیصال کرتا ہے اور اپنے بندوں کو نصرت حق کا ایسا معاملہ دکھاتا ہے کہ جس کے بارے میں کبھی ان کے دل میں خیال بھی نہیں گزرا ہوتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وكان أصلُ خروجهم يتعرَّضون لعير خرجت مع أبي سفيان بن حرب لقريش إلى الشام قافلة كبيرة، فلما سمعوا برجوعها من الشام؛ ندب النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - الناس، فخرج معه ثلاثمائة وبضعة عشر رجلاً معهم سبعون بعيراً يعتقبون عليها ويحملون عليها متاعَهم، فسمع بخبرهم قريشٌ، فخرجوا لمنع عيرهم في عَدَدٍ كثيرٍ وعُدَدٍ وافرة من السلاح والخيل والرجال، يبلغ عددهم قريباً من الألف، فوعد الله المؤمنين إحدى الطائفتين: إما أن يظفروا بالعير، أو بالنفير، فأحبوا العير لقلَّة ذات يد المسلمين ولأنَّها غير ذات الشوكة. ولكن الله تعالى أحبَّ لهم وأراد أمراً أعلى مما أحبُّوا، أراد أن يظفروا بالنَّفير الذي خرج فيه كبراء المشركين وصناديدُهم. فيريد اللهُ أن يُحِقَّ الحقَّ بكلماتِهِ فينصر أهله، {ويقطَعَ دابرَ الكافرين}؛ أي: يستأصل أهلَ الباطل ويُري عبادَهُ من نصرِهِ للحقِّ أمراً لم يكن يخطر ببالهم.