تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنفال (8) — آیت 57

فَاِمَّا تَثۡقَفَنَّہُمۡ فِی الۡحَرۡبِ فَشَرِّدۡ بِہِمۡ مَّنۡ خَلۡفَہُمۡ لَعَلَّہُمۡ یَذَّکَّرُوۡنَ ﴿۵۷﴾
پس اگر کبھی تو انھیں لڑائی میں پا ہی لے تو ان (پر کاری ضرب) کے ساتھ ان لوگوں کو بھگا دے جو ان کے پیچھے ہیں، تاکہ وہ نصیحت پکڑیں۔ En
اگر تم ان کو لڑائی میں پاؤ تو انہیں ایسی سزا دو کہ جو لوگ ان کے پس پشت ہیں وہ ان کو دیکھ کر بھاگ جائیں عجب نہیں کہ ان کو (اس سے) عبرت ہو
En
پس جب کبھی تو لڑائی میں ان پر غالب آجائے انہیں ایسی مار مار کہ ان کے پچھلے بھی بھاگ کھڑے ہوں، ہو سکتا ہے کہ وه عبرت حاصل کریں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

لہذا ان کو ختم کرنا اور ہلاک کرنا ضروری ہے تاکہ ان کی بیماری دوسروں میں نہ پھیلے، اسی لیے فرمایا۔ ﴿ فَاِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِی الْحَرْبِ پس جب تم ان کو حالت جنگ میں پاؤ جبکہ تمھارے اور ان کے درمیان عہد و میثاق نہ ہو۔ ﴿ فَشَرِّدْ بِهِمْ مَّنْ خَلْفَهُمْ تو ان کو ایسی سزا دو کہ دیکھ کر بھاگ جائیں ان کے پچھلے یعنی ان کے ذریعے سے دوسروں کو سبق سکھا دیں اور ان کو ایسی سزا دیں کہ وہ بعد میں آنے والوں کے لیے نشان بن جائیں۔ ﴿ لَعَلَّهُمْ شاید کہ وہ یعنی بعد میں آنے والے ﴿ یَذَّكَّـرُوْنَ نصیحت پکڑیں۔ ان کے کرتوتوں سے نصیحت پکڑیں تاکہ ان پر بھی وہی عذاب نازل نہ ہو جائے جو ان پر نازل ہوا تھا۔ یہ سزاؤں اور حدود کے فوائد ہیں جو گناہوں پر مترتب ہوتی ہیں، یہ ان لوگوں کے لیے زجر و توبیخ کا سبب ہیں، جنھوں نے گناہ نہیں کیے بلکہ ان کے لیے بھی جنھوں نے گناہ کا ارتکاب کیا تاکہ وہ گناہ کا اعادہ نہ کریں۔
اس عقوبت کے لیے حالت جنگ کی قید لگانا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ کافر.... اگرچہ بہت زیادہ خیانت کا ارتکاب کرنے والا بد عہد ہو.... جب اس سے معاہدۂ امن کر لیا جائے تو اس عہد میں خیانت کرنا اور اسے عقوبت دینا جائز نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فإذْهابُ هؤلاء ومحقُهم هو المتعيِّن؛ لئلاَّ يسري داؤهم لغيرهم، ولهذا قال: {فإمَّا تَثْقَفَنَّهُم في الحربِ}؛ أي: تجدنَّهم في حال المحاربة؛ بحيث لا يكون لهم عهدٌ وميثاقٌ. {فشَرِّدْ بهم مَنْ خلفَهم}؛ أي: نكِّل بهم غيرهم، وأوقِعْ بهم من العقوبة ما يصيرون عبرةً لمن بعدهم، {لعلَّهم}؛ أي: من خلفهم [يتقون] صنيعهم؛ لئلاَّ يصيبهم ما أصابهم. وهذه من فوائد العقوبات والحدود المرتَّبة على المعاصي أنها سببٌ لازدجار من لم يعمل المعاصي بل وزجراً لمن عملها أن لا يعاوِدَها. ودل تقييدُ هذه العقوبة في الحرب أنَّ الكافر ولو كان كثير الخيانة سريع الغدر؛ أنه إذا أُعْطِيَ عهداً؛ لا يجوز خيانته وعقوبته.