اور کاش! تو دیکھے جب فرشتے ان لوگوں کی جان قبض کرتے ہیں جنھوں نے کفر کیا، ان کے چہروں اور پشتوں پر مارتے ہیں۔ اور جلنے کا عذاب چکھو۔
En
اور کاش تم اس وقت (کی کیفیت) دیکھو۔ جب فرشتے کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ان کے مونہوں اور پیٹھوں پر (کوڑے اور ہتھوڑے وغیرہ) مارتے (ہیں اور کہتے ہیں) کہ (اب) عذاب آتش (کا مزہ) چکھو
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر آپ کفر کا ارتکاب کرنے والوں کو اس وقت دیکھیں جب موت کے فرشتے ان کی روح قبض کر رہے ہوں گے، ان کو سخت قلق ہوگا اور وہ سخت تکلیف اور کرب میں ہوں گے ﴿ یَضْرِبُوْنَوُجُوْهَهُمْوَاَدْبَ٘ارَهُمْ﴾”مارتے ہیں وہ ان کے مونہوں پر اور ان کے پیچھے“ اور ان سے کہتے ہیں۔ ”اپنی جان نکالو“ ان کی جانیں نکلنے سے انکار کریں گی کیونکہ انھیں علم ہے کہ انھیں کس دردناک عذاب کا سامنا کرنا ہوگا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَذُوْقُوْاعَذَابَالْحَرِیْقِ ﴾”اور عذاب آتش چکھو۔“ یعنی نہایت سخت اور جلانے والے عذاب کا مزا چکھو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى: {ولو ترى}: الذين كفروا بآيات الله حين توفَّاهم الملائكةُ الموكلون بقبض أرواحهم وقد اشتد بهم القلق وعظم كربهم والملائكة {يضرِبون وجوهَهم وأدبارَهم}: يقولون لهم: أخرجوا أنفسكم! ونفوسُهم متمنِّعة متعصِّية على الخروج؛ لعلمها ما أمامها من العذاب الأليم. ولهذا قال: {وذوقوا عذابَ الحريق}؛ أي: العذاب الشديد المحرق.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔