اور ان سے لڑو، یہاں تک کہ کوئی فتنہ نہ رہے اور دین سب کا سب اللہ کے لیے ہو جائے، پھر اگر وہ باز آجائیں تو بے شک اللہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں اسے خوب دیکھنے والا ہے۔
En
اور ان لوگوں سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فتنہ (یعنی کفر کا فساد) باقی نہ رہے اور دین سب خدا ہی کا ہوجائے اور اگر باز آجائیں تو خدا ان کے کاموں کو دیکھ رہا ہے
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
رہا وہ خطاب جو اہل ایمان کو کفار کے ساتھ معاملہ کرنے کا حکم دیتے وقت اہل ایمان کے ساتھ تھا تو اس میں اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا: ﴿ وَقَاتِلُوْهُمْحَتّٰىلَاتَكُوْنَفِتْنَةٌ ﴾”اور ان سے لڑتے رہو، یہاں تک کہ نہ رہے فساد“ یعنی جب تک کہ شرک اور اللہ تعالیٰ کے راستے کی تمام رکاوٹیں دور نہ ہو جائیں اور کفار اسلام کے احکام کے سامنے سرنگوں نہ ہو جائیں۔ ﴿ وَّیَكُوْنَالدِّیْنُكُلُّهٗلِلّٰهِ ﴾”اور ہو جائے حکم سب اللہ کا“ پس دشمنان دین کے خلاف جہاد اور قتال کا یہی مقصد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کو کفار کے شر سے بچایا جائے اور اللہ تعالیٰ کے دین کی، جس کے لیے تمام کائنات تخلیق کی گئی ہے، حفاظت کی جائے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا دین تمام ادیان پر غالب آجائے۔
﴿فَاِنِانْتَهَوْا ﴾”پس اگر وہ باز آجائیں۔“ اپنے ظلم کے رویے سے ﴿ فَاِنَّاللّٰهَبِمَایَعْمَلُوْنَبَصِیْرٌ ﴾”تو بے شک اللہ ان کے کاموں کو دیکھتا ہے“ اور اللہ تعالیٰ سے ان کی کوئی چیز چھپی نہیں رہ سکتی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وأمَّا خطابه للمؤمنين عندما أمرهم بمعاملة الكافرين؛ فقال: {وقاتلوهم حتى لا تكونَ فتنةٌ}؛ أي: شركٌ وصدٌّ عن سبيل الله، ويذعنوا لأحكام الإسلام.
{ويكونَ الدِّينُ كلُّه لله}: فهذا المقصود من القتال والجهاد لأعداء الدين: أن يُدْفَعَ شرُّهم عن الدين، وأن يُذَبَّ عن دين الله الذي خَلقَ الخلق له، حتى يكون هو العالي على سائر الأديان. {فإن انتهوا}: عن ما هم عليه من الظلم، {فإنَّ الله بما يعملون بصير}: لا تخفى عليه منهم خافيةٌ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔