تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنفال (8) — آیت 30

وَ اِذۡ یَمۡکُرُ بِکَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لِیُثۡبِتُوۡکَ اَوۡ یَقۡتُلُوۡکَ اَوۡ یُخۡرِجُوۡکَ ؕ وَ یَمۡکُرُوۡنَ وَ یَمۡکُرُ اللّٰہُ ؕ وَ اللّٰہُ خَیۡرُ الۡمٰکِرِیۡنَ ﴿۳۰﴾
اور جب وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، تیرے خلاف خفیہ تدبیریں کر رہے تھے، تا کہ تجھے قید کر دیں، یا تجھے قتل کر دیں، یا تجھے نکال دیں اور وہ خفیہ تدبیرکر رہے تھے اور اللہ بھی خفیہ تدبیر کر رہا تھا اور اللہ سب خفیہ تدبیر کرنے والوں سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔ En
اور (اے محمدﷺ اس وقت کو یاد کرو) جب کافر لوگ تمہارے بارے میں چال چل رہے تھے کہ تم کو قید کر دیں یا جان سے مار ڈالیں یا (وطن سے) نکال دیں تو (ادھر تو) وہ چال چل رہے تھے اور (اُدھر) خدا چال چل رہا تھا۔ اور خدا سب سے بہتر چال چلنے والا ہے
En
اور اس واقعہ کا بھی ذکر کیجئے! جب کہ کافر لوگ آپ کی نسبت تدبیر سوچ رہے تھے کہ آپ کو قید کر لیں، یا آپ کو قتل کر ڈالیں یا آپ کو خارج وطن کر دیں اور وه تو اپنی تدبیریں کر رہے تھے اور اللہ اپنی تدبیر کر رہا تھا اور سب سے زیاده مستحکم تدبیر واﻻ اللہ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تبارک و تعالیٰ کی اس نعمت کو یاد کیجیے جس سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو نوازا ہے، ﴿ وَاِذْ یَمْؔكُرُ بِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا جب سازش کرتے تھے کافر آپ کے بارے میں جب مشرکین مکہ نے دارالندوہ میں مشورہ کیا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟
(۱) آپ کو بیڑیاں پہنا کر محبوس کر دیا جائے۔
(۲) آپ کو قتل کر دیا جائے تاکہ... بزعم خود... ہمیشہ کے لیے آپ سے نجات حاصل کر لیں۔
(۳) آپ کو مکہ سے نکال باہر کر کے ملک بدر کر دیا جائے۔
ہر شخص نے اپنی اپنی رائے کا اظہار کیا۔ آخر کار تمام لوگوں نے اس مجلس میں شریک شریر ترین آدمی، ابوجہل (لَعَنَہُ اللہُ) کی رائے سے اتفاق کیا کہ قریش کے تمام قبائل سے ایک ایک آدمی لے کر اسے تیز تلوار دی جائے اور تمام لوگ بیک وقت حملہ کر کے آپ کو قتل کر دیں تاکہ تمام قبائل آپ کے قتل کے ذمہ دار ٹھہریں۔ اس صورت میں بنو ہاشم آپ کی دیت قبول کرنے پر راضی ہو جائیں گے اور قصاص لینے کے لیے قریش کے تمام قبائل کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے، چنانچہ وہ رات کے وقت گھات لگا کر بیٹھ گئے تاکہ جب آپ اپنے بستر سے بیدار ہوں تو آپ پر حملہ کر دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آسمان سے وحی نازل ہوئی۔ آپ باہر تشریف لائے، آپ نے ان سب کے سروں میں خاک ڈالی اور وہاں سے نکل گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان سب کو اندھا کر دیا۔ جب بہت دیر ہوگئی تو کسی آنے والے نے کہا وائے تمھاری ناکامی! محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو نکل گیا اور تمھارے سروں میں خاک بھی ڈال گیا ہے۔انھوں نے اپنے سروں سے مٹی جھاڑی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بچا لیا اور آپ کو مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دے دی۔ پس آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ اللہ تعالیٰ نے مہاجرین و انصار کے ذریعے سے آپ کی مدد فرمائی اور یوں آپ کو غلبہ حاصل ہوتا گیا۔ یہاں تک کہ آپ فاتح بن کر مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔ تمام قریش مکہ نے آپ کی اطاعت قبول کر لی اور آپ کے ماتحت آگئے حالانکہ اس سے پہلے آپ ان سے چھپ کر جان کے خوف سے وہاں سے نکلے تھے۔ پس پاک ہے وہ ہستی جو اپنے بندوں کو لطف و کرم سے نوازتی ہے اور جس پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: {و} اذكر أيُّها الرسول ما مَنَّ الله بك عليك، {إذ يَمْكُرُ بك الذين كفروا}: حين تشاور المشركون في دار الندوة فيما يصنعون بالنبيِّ - صلى الله عليه وسلم -: إما أن يُثْبِتوه عندهم بالحبس ويوثِقوه، وإما أن يقتلوه فيستريحوا بزعمهم من شرِّه! وإما أن يخرِجوه ويُجْلوه من ديارهم؛ فكلٌّ أبدى من هذه الآراء رأياً رآه، فاتفق رأيُهم على رأي رآه شريرهم أبو جهل لعنه الله، وهو أن يأخذوا من كلِّ قبيلةٍ من قبائل قريش فتى، ويعطوه سيفاً صارماً، ويقتله الجميع قِتلةَ رجل واحدٍ؛ ليتفرَّق دمُهُ في القبائل، فيرضى بنو هاشم ثَمَّ بديتِهِ، فلا يقدرون على مقاومة جميع قريش ، فترصَّدوا للنبي - صلى الله عليه وسلم - في الليل ليوقعوا به إذا قام من فراشه، فجاءه الوحي من السماء، وخَرَجَ عليهم، فَذَرَّ على رؤوسهم التراب وخرج، وأعمى الله أبصارهم عنه، حتى إذا استبطؤوه؛ جاءهم آتٍ وقال: خيَّبكم الله! قد خرج محمدٌ وذَرَّ على رؤوسكم الترابَ! فنفض كلٌّ منهم التراب [عن] رأسه ، ومنع الله رسولَه منهم، وأذِنَ له في الهجرة إلى المدينة، فهاجر إليها، وأيَّده الله بأصحابه المهاجرين والأنصار، ولم يزل أمره يعلو حتى دخل مكة عنوةً وقَهَرَ أهلها فأذعنوا له وصاروا تحت حكمِهِ بعد أن خرج مستخفياً منهم خائفاً على نفسه؛ فسبحان اللطيف بعبده الذي لا يغالبه مغالبٌ. وقوله: