تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنفال (8) — آیت 15

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا لَقِیۡتُمُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا زَحۡفًا فَلَا تُوَلُّوۡہُمُ الۡاَدۡبَارَ ﴿ۚ۱۵﴾
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب تم ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا، آمنے سامنے مقابلے کی صورت میں ملو تو ان سے پیٹھیں نہ پھیرو۔ En
اے اہل ایمان جب میدان جنگ میں کفار سے تمہار مقابلہ ہو تو ان سے پیٹھ نہ پھیرنا
En
اے ایمان والو! جب تم کافروں سے دو بدو مقابل ہو جاؤ تو ان سے پشت مت پھیرنا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے اہل ایمان بندوں کو شجاعت ایمانی، اللہ کے معاملے میں قوت اور دلوں اور جسموں کو مضبوط کرنے والے اسباب فراہم کرنے کا حکم دیا ہے اور جب دونوں فوجوں کے درمیان معرکہ ہو تو میدان جنگ سے فرار ہونے سے منع کیا ہے۔ ﴿ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا زَحْفًا اے ایمان والو، جب بھڑو تم کافروں سے میدان جنگ میں یعنی جب لڑائی کے لیے صف بندی ہو چکی ہو، فوجیں ایک دوسرے کی طرف بڑھ رہی ہوں اور جنگجو ایک دوسرے کے قریب آچکے ہوں، ﴿ فَلَا تُوَلُّوْهُمُ الْاَدْبَ٘ارَ تو پھر کفار کے سامنے پیٹھ پھیر کر نہ بھاگو بلکہ ان سے لڑنے کے لیے ثابت قدمی سے ڈٹ جاؤ اور ان کی قوت اور حملے کا صبر سے مقابلہ کرو۔ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت، اہل ایمان کے دلوں کی مضبوطی اور دشمنوں کو خوف زدہ کرنے کا باعث ہوگی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يأمر تعالى عبادَهُ المؤمنين بالشجاعة الإيمانيَّة والقوَّة في أمره والسعي في جَلْب الأسباب المقويَّة للقلوب والأبدان، ونهاهم عن الفرار إذا التقى الزحفان، فقال: {يا أيُّها الذين آمنوا إذا لقيتُمُ الذين كَفَروا زحفاً}؛ أي: في صفِّ القتال وتزاحف الرجال واقتراب بعضهم من بعض، {فلا تولُّوهم الأدبارَ}: بل اثبُتوا لقتالِهِم واصبِروا على جِلادِهم؛ فإنَّ في ذلك نُصرةً لدين الله وقوَّةً لقلوب المؤمنين وإرهاباً للكافرين.