تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنفال (8) — آیت 12

اِذۡ یُوۡحِیۡ رَبُّکَ اِلَی الۡمَلٰٓئِکَۃِ اَنِّیۡ مَعَکُمۡ فَثَبِّتُوا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ؕ سَاُلۡقِیۡ فِیۡ قُلُوۡبِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوا الرُّعۡبَ فَاضۡرِبُوۡا فَوۡقَ الۡاَعۡنَاقِ وَ اضۡرِبُوۡا مِنۡہُمۡ کُلَّ بَنَانٍ ﴿ؕ۱۲﴾
جب تیرا رب فرشتوں کی طرف وحی کر رہا تھا کہ میں تمھارے ساتھ ہوں، پس تم ان لوگوں کو جمائے رکھو جو ایمان لائے ہیں، عنقریب میں ان لوگوں کے دلوں میں جنھوں نے کفر کیا، رعب ڈال دوں گا۔ پس ان کی گردنوں کے اوپر ضرب لگاؤ اور ان کے ہر ہر پور پر ضرب لگاؤ۔ En
جب تمہارا پروردگار فرشتوں کو ارشاد فرماتا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تم مومنوں کو تسلی دو کہ ثابت قدم رہیں۔ میں ابھی ابھی کافروں کے دلوں میں رعب وہیبت ڈالے دیتا ہوں تو ان کے سر مار (کر) اڑا دو اور ان کا پور پور مار (کر توڑ) دو
En
اس وقت کو یاد کرو جب کہ آپ کا رب فرشتوں کو حکم دیتا تھا کہ میں تمہارا ساتھی ہوں سو تم ایمان والوں کی ہمت بڑھاؤ میں ابھی کفار کے قلوب میں رعب ڈالے دیتا ہوں، سو تم گردنوں پر مارو اور ان کے پور پور کو مارو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نصرت تھی کہ اس نے فرشتوں کی طرف وحی بھیجی۔ ﴿ اَنِّیْ مَعَكُمْ کہ میں تمھارے ساتھ ہوں۔ یعنی میری مدد، نصرت اور تائید تمھارے ساتھ ہے۔ ﴿ فَثَبِّتُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا پس ثابت رکھو تم دل ایمان والوں کے یعنی دشمن کے مقابلے میں ان کے دلوں کو مضبوط کرو اور ان کے دلوں کو جرأت سے لبریز کر دو اور انھیں جہاد کی ترغیب دو۔ ﴿ سَاُلْ٘قِیْ فِیْ قُ٘لُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ میں ڈال دو ں گا کافروں کے دلوں میں دہشت جو کافروں کے مقابلے میں تمھارا سب سے بڑا لشکر ہے کیونکہ جب اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو ثابت قدمی عطا کرتا ہے اور کفار کے دلوں میں رعب ڈال دیتا ہے تو کفار ثابت قدم نہیں رہ سکتے اور اللہ تعالیٰ ان کی گردنیں اہل ایمان کے قبضے میں دے دیتا ہے۔ ﴿ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ پس تم انکی گردنیں مارو ﴿وَاضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُ٘لَّ بَنَانٍ اور کاٹو ان کی پور پور یعنی ان کے جوڑ جوڑ پر ضرب لگاؤ... یہ خطاب یا تو ان فرشتوں سے ہے جن کی طرف وحی کی گئی تھی کہ وہ اہل ایمان کے دل مضبوط کریں، تب یہ اس بات کی دلیل ہے کہ غزوۂ بدر میں فرشتے قتال میں شریک ہوئے... یا یہ خطاب اہل ایمان سے ہے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا حوصلہ بڑھاتا ہے اور انھیں تعلیم دیتا ہے کہ وہ مشرکین کو کیسے قتل کریں اور یہ کہ وہ ان پر رحم نہ کریں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ومن ذلك أنَّ الله أوحى إلى الملائكة: {أنِّي معكم}: بالعون والنصر والتأييد، {فثبِّتوا الذين آمنوا}؛ أي: ألقوا في قلوبهم وألهموهم الجراءة على عدوِّهم ورغِّبوهم في الجهاد وفضله. {سألقي في قلوبِ الذين كَفَروا الرُّعْبَ}: الذي هو أعظم جندٍ لكم عليهم؛ فإنَّ الله إذا ثبَّت المؤمنين وألقى الرعب في قلوب الكافرين؛ لم يقدِرِ الكافرون على الثَّبات لهم، ومَنَحَهُمُ الله أكتافهم، {فاضربوا فوقَ الأعناق}؛ أي: على الرقاب، {واضرِبوا منهم كلَّ بنانٍ}؛ أي: مفصل. وهذا خطابٌ: إما للملائكة الذين أوحى [اللهُ] إليهم أن يثبِّتوا الذين آمنوا فيكون في ذلك دليلٌ أنَّهم باشروا القتال يوم بدر، أو للمؤمنين يشجِّعهم الله ويعلِّمهم كيف يقتلون المشركين وأنهم لا يرحمونهم.