تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنفال (8) — آیت 10

وَ مَا جَعَلَہُ اللّٰہُ اِلَّا بُشۡرٰی وَ لِتَطۡمَئِنَّ بِہٖ قُلُوۡبُکُمۡ ۚ وَ مَا النَّصۡرُ اِلَّا مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿٪۱۰﴾
اور اللہ نے اسے نہیں بنایا مگر ایک خوش خبری اور تاکہ اس کے ساتھ تمھارے دل مطمئن ہوں اور مدد نہیں ہے مگر اللہ کے پاس سے۔ بے شک اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔ En
اور اس مدد کو خدا نے محض بشارت بنایا تھا کہ تمہارے دل سے اطمینان حاصل کریں۔ اور مدد تو الله ہی کی طرف سے ہے۔ بےشک خدا غالب حکمت والا ہے
En
اور اللہ تعالیٰ نے یہ امداد محض اس لیے کی کہ بشارت ہو اور تاکہ تمہارے دلوں کو قرار ہو جائے اور مدد صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے جو کہ زبردست حکمت واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَمَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اور نہیں بنایا اس کو اللہ نے یعنی فرشتوں کے نازل کرنے کو ﴿ اِلَّا بُشْ٘رٰى مگر خوش خبری تاکہ اس سے تمھارے دل خوشی حاصل کریں۔ ﴿ وَلِتَطْمَىِٕنَّ بِهٖ قُ٘لُوْبُكُمْ اور تمھارے دل مطمئن ہوں ورنہ فتح و نصرت تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، فتح کثرت تعداد اور سازوسامان سے حاصل نہیں ہوتی۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ بے شک اللہ غالب ہے۔ کوئی اس پر غالب نہیں آسکتا بلکہ وہی غالب ہے وہ جن لوگوں سے علیحدہ ہو کر ان کی مدد چھوڑ دیتا ہے خواہ ان کی تعداد کتنی ہی زیادہ اور آلات حرب خواہ کتنے ہی کیوں نہ ہوں (غلبہ حاصل نہیں کر سکتے) ﴿ حَكِیْم حکمت والا ہے۔ کیونکہ اس نے تمام امور کو ان کے اسباب کے ساتھ مقدر کیا ہے اور اس نے ہر چیز کو اس مقام پر رکھا ہے جو اس کے لیے مناسب ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وما جعله الله}؛ أي: إنزال الملائكة {إلا بشرى}؛ أي: لتستبشر بذلك نفوسكم، {ولتطمئنَّ به قلوبُكم}: وإلاَّ؛ فالنصر بيد الله، ليس بكثرة عَدَدٍ ولا عُدَدٍ. {إن الله عزيزٌ}: لا يغالبُه مغالبٌ، بل هو القهار الذي يخذل من بلغوا من الكثرة وقوة العدد والآلات ما بلغوا، {حكيمٌ}: حيث قدَّر الأمور بأسبابها ووضع الأشياء مواضعها.