تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿یَوْمَتَرْجُفُالرَّاجِفَةُ﴾”جس دن زمین پر بھونچال آئے گا۔“اور یہ قیامت کا قائم ہونا ہے، ﴿تَتْبَعُهَاالرَّادِفَةُ﴾ یعنی ایک اور زلزلہ جو اس کے ساتھ ہی اس کے پیچھے پیچھے آئے گا ﴿قُ٘لُوْبٌیَّوْمَىِٕذٍوَّاجِفَةٌ﴾ اس دن جو کچھ نظر آئے گا اور سنائی دے گا اس کی شدت کی بنا پر دل دہل جائیں گے ﴿اَبْصَارُهَاخَاشِعَةٌ﴾ نگاہیں بہت ذلیل اور حقیر ہوں گی، ان کے دلوں پر خوف طاری ہو گا، گھبراہٹ ان کی عقل کو زائل کر دے گی، ان پر تاسف کا غلبہ ہو گا اور حسرت ان پر قبضہ کر لے گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{يومَ ترجُفُ الرَّاجفةُ}: وهي قيام الساعة، {تتبعُها الرادفةُ}؛ أي: الرجفة الأخرى التي تَرْدُفُها وتأتي تلوَها. {قلوبٌ يومئذٍ واجفةٌ}؛ أي: منزعجةٌ من شدَّة ما ترى وتسمع، {أبصارُها خاشعةٌ}؛ أي: ذليلةٌ حقيرةٌ قد ملك قلوبهم الخوف وأذهل أفئدتهم الفزع وغلب عليهم التأسُّف، واستولت عليهم الحسرة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔