تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النازعات (79) — آیت 45

اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُنۡذِرُ مَنۡ یَّخۡشٰہَا ﴿ؕ۴۵﴾
توُ تو صرف اسے ڈرانے والا ہے جو اس سے ڈرتا ہے۔ En
جو شخص اس سے ڈر رکھتا ہے تم تو اسی کو ڈر سنانے والے ہو
En
آپ تو صرف اس سے ڈرتے رہنے والوں کو آگاه کرنے والے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرُ مَنْ یَّخْشٰىهَا یعنی آپ کی تنبیہ کا فائدہ صرف اسی شخص کوہوتا ہے جو اس گھڑی کی آمد سے ڈرتا اور اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا ہونے سے خائف ہے، پس یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے سب سے اہم چیز اس کے لیے تیاری اور اس کے لیے عمل ہے۔ جو کوئی قیامت پر ایمان نہیں رکھتا تو وہ اس کی پروا نہیں کرتا، اور نہ وہ اس تکلیف میں پڑتا ہے، کیونکہ یہ ایسا تعنت ہے جو تکذیب اور عناد پر مبنی ہے، اور جب سائل اس حال کو پہنچ جائے تو اس کے بارے میں جواب دینا عبث ہے، احکم الحاکمین اس عبث کام سے منزہ ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إنَّما أنت منذرُ مَنْ يَخْشاها}؛ أي: إنَّما نذارتك نفعها لمن يخشى مجيء الساعة ويخاف الوقوف بين يدي الله ؛ فهم الذين لا يُهِمُّهم إلاَّ الاستعداد لها والعمل لأجلها، وأما مَنْ لم - يؤمن بها؛ فلا يُبَالى به ولا بتعنُّته؛ لأنَّه تعنتٌ مبنيٌّ على التَّكذيب والعناد ، وإذا وصل إلى هذه الحال؛ كان الإجابة عنه عبثاً، ينزَّه أحكم الحاكمين عنه.