تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النازعات (79) — آیت 42

یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ السَّاعَۃِ اَیَّانَ مُرۡسٰہَا ﴿ؕ۴۲﴾
وہ تجھ سے قیامت کے متعلق پوچھتے ہیں کہ اس کا قیام کب ہے؟ En
(اے پیغمبر، لوگ) تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہو گا؟
En
لوگ آپ سے قیامت کے واقع ہونے کا وقت دریافت کرتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

قیامت کو جھٹلانے والے اور لغزش کے خواہاں لوگ آپ سے پوچھتے ہیں: ﴿ عَنِ السَّاعَةِ قیامت کے متعلق کہ اس کا وقوع اور ﴿اَیَّانَ مُرْسٰہَااس کا قیام کب ہوگا؟ اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿ فِیْمَ اَنْتَ مِنْ ذِكْرٰىهَا پس تم اس کے ذکر کی فکر میں ہو؟ یعنی اس کے ذکر اور اس کی آمد کے وقت کی معرفت حاصل کرنے میں آپ کو اور ان کو کیا فائدہ؟ پس اس کا کوئی نتیجہ نہیں۔ اس لیے، کہ قیامت کے وقت کے بارے میں بندوں کے علم میں کوئی دینی مصلحت ہے نہ دنیاوی مصلحت، بلکہ قیامت کے وقت کے اخفاء ہی میں مصلحت ہے، اس لیے اس کے علم کو تمام مخلوق سے مخفی رکھا اور اس کے علم کو صرف اپنے لیے مخصوص رکھا۔
چنانچہ فرمایا: ﴿ اِلٰى رَبِّكَ مُنْتَهٰىهَا یعنی اس کا علم اللہ تعالیٰ پر منتہی ہوتا ہے جیسا کہ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ یَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّ٘انَ مُرْسٰؔىهَا١ؕ قُ٘لْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ١ۚ لَا یُجَلِّیْهَا لِوَقْتِهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؔ ۘ ؕ ثَقُلَتْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ١ؕ لَا تَاْتِیْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً١ؕ یَسْـَٔلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِیٌّ عَنْهَا١ؕ قُ٘لْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۰۰ (الاعراف:7؍187) یہ لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہو گا، آپ کہہ دیجیے کہ اس کا علم تو میرے رب ہی کے پاس ہے اس کو اس وقت پر صرف وہی ظاہر کرے گا۔ وہ آسمانوں اور زمین میں بڑا بھاری (حادثہ) ہوگا۔ وہ تم پر محض اچانک آپڑے گی۔ وہ آپ سے اس طرح پوچھتے ہیں جیسے گویا آپ اس کی تحقیقات کرچکے ہیں۔ فرمادیجیے کہ اُس کا علم خاص اللہ ہی کے پاس ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: يسألك المتعنِّتون المكذِّبون بالبعث {عن الساعة}: متى وقوعُها؟ و {أيَّان مُرْساها}؟! فأجابهم الله بقوله: {فيم أنت من ذكراها}؛ أي: ما الفائدة لك ولهم في ذكرها ومعرفة وقت مجيئها؛ فليس تحت ذلك نتيجةٌ، ولهذا لمَّا كان علم العباد للساعة ليس لهم فيه مصلحةٌ دينيةٌ ولا دنيويةٌ، بل المصلحة في إخفائه عليهم، طوى علم ذلك عن جميع الخلق واستأثر بعلمه فقال: {إلى ربك منتهاها}؛ أي: إليه ينتهي علمها؛ كما قال في الآية الأخرى: {يسألونَكَ عن الساعة أيَّانَ مُرْساها قل إنَّما علمُها عند ربِّي لا يُجَلِّيها لوقتها إلاَّ هو}.