تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانے والے کس چیز کے بارے میں پوچھ رہے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ نے اس چیز کے بارے میں بیان فرمایا جس کے بارے میں وہ پوچھ رہے ہیں، چنانچہ فرمایا: ﴿عَنِالنَّبَ٘اِالْعَظِیْمِۙ۰۰الَّذِیْهُمْفِیْهِمُخْتَلِفُوْنَؔ﴾ یعنی عظیم خبر کے بارے میں پوچھ رہے ہیں جس میں تکذیب اور مستبعد ہونے کی وجہ سے ان کا نزاع طول پکڑ گیا اوران کی مخالفت پھیل گئی حالانکہ وہ ایسی خبر ہے جو شک کو قبول کرتی ہے نہ اس میں کوئی شبہ داخل ہو سکتا ہے مگر مکذبین کا حال یہ ہے کہ اگر ان کے پاس تمام نشانیاں ہی کیوں نہ آ جائیں، یہ اپنے رب سے ملاقات پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ اس لیے فرمایا: ﴿كَلَّاسَیَعْلَمُوْنَؔۙ۰۰ثُمَّكَلَّاسَیَعْلَمُوْنَؔ﴾ یعنی عنقریب جب عذاب نازل ہو گا جسے وہ جھٹلایا کرتے تھے تو انھیں معلوم ہو جائے گا، اس وقت انھیں جہنم کی آگ میں دھکے دے کر ڈالا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا: ﴿هٰؔذِهِالنَّارُالَّتِیْكُنْتُمْبِهَاتُكَذِّبُوْنَ﴾ (الطور:52؍14) ”یہ وہ آگ ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: عن أيِّ شيءٍ يتساءل المكذِّبون بآيات الله؟ ثم بيَّن ما يتساءلون عنه فقال: {عن النبإ العظيم. الذي هم فيه مختلفونَ}؛ أي: عن الخبر العظيم الذي طال فيه نزاعُهم وانتشر فيه خلافُهم على وجه التَّكذيب والاستبعاد، وهو النبأ الذي لا يقبل الشكَّ ولا يدخُلُه الريبُ، ولكن المكذِّبون بلقاء ربِّهم لا يؤمنون، ولو جاءتهم كلُّ آيةٍ، حتى يَرَوُا العذاب الأليم، ولهذا قال: {كلاَّ سيعلمونَ. ثم كلاَّ سيعلمونَ}؛ أي: سيعلمون إذا نزل بهم العذابُ ما كانوا به يكذبون حين {يُدَعُّون إلى نار جَهَنَّم دعًّا}. ويقال لهم: {هذه النَّار التي كنتُم بها تكذِّبونَ}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔