تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المرسلات (77) — آیت 7

اِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ لَوَاقِعٌ ؕ﴿۷﴾
بے شک تم سے جس چیز کا وعدہ کیا جاتا ہے یقینا ہو کر رہنے والی ہے۔ En
کہ جس بات کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ ہو کر رہے گی
En
جس چیز کا تم سے وعده کیا جاتا ہے وہ یقیناً ہونے والی ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ یعنی مرنے کے بعد زندگی اور اعمال کی جزا و سزا کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے ﴿ لَوَاقِعٌ اس کا وقوع کسی شک و ریب کے بغیر حتمی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إنَّما توعَدون}: من البعث والجزاء على الأعمال {لَواقِعٌ}؛ أي: متحتِّم وقوعه من غير شكٍّ ولا ارتياب.