تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانسان/الدهر (76) — آیت 8

وَ یُطۡعِمُوۡنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسۡکِیۡنًا وَّ یَتِیۡمًا وَّ اَسِیۡرًا ﴿۸﴾
اور وہ کھانا کھلاتے ہیں اس کی محبت پر مسکین اور یتیم اور قیدی کو۔ En
اور باوجود یہ کہ ان کو خود طعام کی خواہش (اور حاجت) ہے فقیروں اور یتیموں اور قیدیوں کو کھلاتے ہیں
En
اور اللہ تعالیٰ کی محبت میں کھانا کھلاتے ہیں مسکین، یتیم اور قیدیوں کو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَیُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ یعنی وہ اس حال میں ہوتے ہیں کہ جس میں وہ خود مال اور طعام کو پسند کرتے ہیں مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو اپنے نفس کی محبت پر مقدم رکھا اور وہ لوگوں میں سب سے زیادہ مستحق اور سب سے زیادہ حاجت مند کو کھانا کھلانے کی کوشش کرتے ہیں ﴿ مِسْكِیْنًا وَّیَتِیْمًا وَّاَسِیْرًا مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کو۔ ان کے کھانا کھلانے اور خرچ کرنے میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہوتی ہے۔ وہ اپنی زبان حال سے کہتے ہیں: ﴿ اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِیْدُ مِنْكُمْ جَزَآءًؔ وَّلَا شُكُوْرًا ہم تو تمھیں صرف اللہ کی رضا کے لیے کھلاتے ہیں، ہم تم سے کسی بدلے کے خواست گار ہیں اور نہ شکر گزاری کے۔ یعنی نہ کوئی مالی جزا چاہتے ہیں اور نہ قولی ثنا۔
﴿ اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا یَوْمًا عَبُوْسًا ہم اپنے پرودگار سے اس دن کا خوف کرتے ہیں جو اداسی والا ہوگا۔ جو نہایت سخت اور شر والا دن ہوگا ﴿قَ٘مْطَرِیْرًا اور نہایت تنگ دن ہوگا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ويطعِمونَ الطَّعامَ على حبِّه}؛ أي: وهم في حال يحبُّون فيها المال والطعام، لكنَّهم قدَّموا محبَّة الله على محبَّة نفوسهم، ويتحرَّوْن في إطعامهم أولى الناس وأحوجَهم، {مسكيناً ويتيماً وأسيراً}: ويقصدون بإنفاقهم وإطعامهم وجهَ الله تعالى، ويقولون بلسان الحال: {إنَّما نطعِمُكم لوجه الله لا نريدُ منكم جزاءً ولا شكوراً}؛ أي: لا جزاءً ماليًّا ولا ثناءً قوليًّا، {إنا نخاف من ربِّنا يوماً عبوساً}؛ أي: شديد الجهمة والشرِّ، {قمطريراً}؛ أي: ضنكاً ضيقاً.