تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور اس کی نافرمانی کے ارتکاب کی جسارت کی ہم نے اس کے لیے تیار کی ہیں ﴿ سَلٰسِلَاۡ ﴾ جہنم کی آگ میں زنجیریں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ثُمَّفِیْسِلْسِلَةٍذَرْعُهَاسَبْعُوْنَذِرَاعًافَاسْلُكُوْهُ﴾ (الحاقۃ:69؍32) ” پھر اسے اس زنجیر میں جکڑ دو جس کی پیمائش ستر ہاتھ ہے۔“﴿وَاَغْلٰلًا﴾”اورطوق“ جس کے ذریعے سے ان کے ہاتھوں کو ان کی گردنوں کے ساتھ باندھ کر ان سے جکڑ دیا جائے گا۔﴿وَّسَعِیْرًا﴾ یعنی ہم نے ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے جو ان کے جسموں کے ساتھ بھڑکے گی اور ان کے بدنوں کو جلا ڈالے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿كُلَّمَانَضِجَتْجُلُوْدُهُمْبَدَّلْنٰهُمْجُلُوْدًاغَیْرَهَالِیَذُوْقُواالْعَذَابَ ﴾ (النساء:4؍56) ”جب ان کی کھالیں گل جائیں گی، تو ہم ان کو ان کے سوا اور کھالوں سے بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب کا مزا چکھتے رہیں۔“ یہ عذاب ان کے لیے دائمی ہوگا اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: إنَّا هيَّأنا وأرصدنا لمن كفر باللَّه وكذَّب رسله وتجرَّأ على معاصيه، {سلاسل}: في نار جهنَّم؛ كما قال تعالى: {ثمَّ في سلسلةٍ ذَرْعُها سبعونَ ذِراعاً فاسلكوه}، {وأغلالاً}: تُغَلُّ بها أيديهم إلى أعناقهم ويوثقون بها، {وسعيراً}؛ أي: ناراً تستعر بها أجسامُهم وتُحرق بها أبدانُهم، كلَّما نَضِجَتْ جلودُهم؛ بدَّلناهم جلوداً غيرها ليذوقوا العذاب، وهذا العذاب الدَّائم مؤبَّدٌ لهم ، مخلَّدون فيه سرمداً.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔