تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانسان/الدهر (76) — آیت 21

عٰلِیَہُمۡ ثِیَابُ سُنۡدُسٍ خُضۡرٌ وَّ اِسۡتَبۡرَقٌ ۫ وَّ حُلُّوۡۤا اَسَاوِرَ مِنۡ فِضَّۃٍ ۚ وَ سَقٰہُمۡ رَبُّہُمۡ شَرَابًا طَہُوۡرًا ﴿۲۱﴾
ان کے اوپر باریک ریشم کے سبز کپڑے اور گاڑھا ریشم ہوگا اور انھیں چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے اور ان کا رب انھیں نہایت پاک شراب پلائے گا۔ En
ان (کے بدنوں) پر دیبا سبز اور اطلس کے کپڑے ہوں گے۔ اور انہیں چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے اور ان کا پروردگار ان کو نہایت پاکیزہ شراب پلائے گا
En
ان کے جسموں پر سبز باریک اور موٹے ریشمی کپڑے ہوں گے اور انہیں چاندی کے کنگن کا زیور پہنایا جائے گا۔ اور انہیں ان کا رب پاک صاف شراب پلائے گا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ عٰؔلِیَهُمْ ثِیَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَّاِسْتَبْرَقٌ، یعنی ان کو سبز اور دبیز ریشم کے باریک اطلس کے لباس پہنائے جائیں گے۔ یہ دونوں حریر کی بہترین اقسام ہیں۔ ﴿ سُنْدُسٍ موٹے اور دبیز ریشمی کپڑے کو کہتے ہیں، اور (استبرق) باریک ریشمی کپڑے کو کہا جاتا ہے۔ ﴿ وَّحُلُّوْۤا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ مردوں اور عورتوں کو ان کے ہاتھوں میں چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے، یہ وعدہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ کر رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہو کر رہتا ہے کیونکہ اپنے قول اور اپنی بات میں اس سے بڑھ کر کوئی سچا نہیں ﴿ وَسَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابً٘ا طَهُوْرًا اور انھیں ان کا رب پاک صاف شراب پلائے گا۔ جس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی کدورت نہ ہو گی اور ان کے پیٹ میں جو آلائشیں وغیرہ ہوں گی ان کو پاک صاف کر دے گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{عاليهم ثيابُ سندسٍ خضرٌ}؛ أي: قد جلَّلتهم ثياب السندس والإستبرق الأخضران اللَّذان هما أجلُّ أنواع الحرير، فالسُّندس ما غلظ من الحرير، والإستبرقُ ما رقَّ منه، {وحُلُّوا أساوِرَ من فضَّةٍ}؛ أي: حُلُّوا في أيديهم أساور الفضَّة؛ ذكورهم وإناثهم. وهذا وعدٌ وَعَدَهم الله، وكان وعدُه مفعولاً؛ لأنَّه لا أصدق منه قيلاً ولا حديثاً. وقوله: {وسقاهم ربُّهم شراباً طهوراً}؛ أي: لا كدر فيه بوجهٍ من الوجوه، مطهراً لما في بطونهم من كلِّ أذىً وقذىً.