تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ عٰؔلِیَهُمْثِیَابُسُنْدُسٍخُضْرٌوَّاِسْتَبْرَقٌ ﴾، یعنی ان کو سبز اور دبیز ریشم کے باریک اطلس کے لباس پہنائے جائیں گے۔ یہ دونوں حریر کی بہترین اقسام ہیں۔ ﴿ سُنْدُسٍ ﴾ موٹے اور دبیز ریشمی کپڑے کو کہتے ہیں، اور (استبرق) باریک ریشمی کپڑے کو کہا جاتا ہے۔ ﴿ وَّحُلُّوْۤااَسَاوِرَمِنْفِضَّةٍ ﴾ مردوں اور عورتوں کو ان کے ہاتھوں میں چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے، یہ وعدہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ کر رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہو کر رہتا ہے کیونکہ اپنے قول اور اپنی بات میں اس سے بڑھ کر کوئی سچا نہیں ﴿ وَسَقٰىهُمْرَبُّهُمْشَرَابً٘اطَهُوْرًا ﴾”اور انھیں ان کا رب پاک صاف شراب پلائے گا۔“ جس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی کدورت نہ ہو گی اور ان کے پیٹ میں جو آلائشیں وغیرہ ہوں گی ان کو پاک صاف کر دے گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{عاليهم ثيابُ سندسٍ خضرٌ}؛ أي: قد جلَّلتهم ثياب السندس والإستبرق الأخضران اللَّذان هما أجلُّ أنواع الحرير، فالسُّندس ما غلظ من الحرير، والإستبرقُ ما رقَّ منه، {وحُلُّوا أساوِرَ من فضَّةٍ}؛ أي: حُلُّوا في أيديهم أساور الفضَّة؛ ذكورهم وإناثهم. وهذا وعدٌ وَعَدَهم الله، وكان وعدُه مفعولاً؛ لأنَّه لا أصدق منه قيلاً ولا حديثاً. وقوله: {وسقاهم ربُّهم شراباً طهوراً}؛ أي: لا كدر فيه بوجهٍ من الوجوه، مطهراً لما في بطونهم من كلِّ أذىً وقذىً.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔