تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانسان/الدهر (76) — آیت 19

وَ یَطُوۡفُ عَلَیۡہِمۡ وِلۡدَانٌ مُّخَلَّدُوۡنَ ۚ اِذَا رَاَیۡتَہُمۡ حَسِبۡتَہُمۡ لُؤۡلُؤًا مَّنۡثُوۡرًا ﴿۱۹﴾
اور ان کے اردگرد لڑکے گھوم رہے ہوں گے، جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے، جب تو انھیں دیکھے گا تو انھیں بکھرے ہوئے موتی گمان کرے گا۔ En
اور ان کے پاس لڑکے آتے جاتے ہوں گے جو ہمیشہ (ایک ہی حالت پر) رہیں گے۔ جب تم ان پر نگاہ ڈالو تو خیال کرو کہ بکھرے ہوئے موتی ہیں
En
اور ان کے ارد گرد گھومتے پھرتے ہوں گے وه کم سن بچے جو ہمیشہ رہنے والے ہیں جب تو انہیں دیکھے تو سمجھے کہ وه بکھرے ہوئے سچے موتی ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَیَطُوْفُ عَلَیْهِمْ یعنی اہل جنت کے پاس، ان کے کھانے، ان کے مشروب اور ان کی خدمت کے لیے گھومتے پھرتے ہوں گے ﴿ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ لڑکے ہمیشہ ایک ہی حالت میں رہنے والے۔ ان کو جنت میں بقا کے لیے پیدا کیا گیا ہے، ان کی ہیئت بدلے گی نہ وہ بڑے ہوں گے اور وہ انتہائی خوبصورت ہوں گے۔ ﴿ اِذَا رَاَیْتَهُمْ جب تو ان کو اہل جنت کی خدمت میں منتشر ہوئے دیکھے ﴿حَسِبْتَهُمْ تو ان کو ان کی خوبصورتی کی وجہ سے سمجھے گا ﴿ لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًا کہ وہ بکھرے ہوئے موتی ہیں۔ یہ اہل جنت کی لذت کی تکمیل ہے کہ ان کے خدام، ہمیشہ رہنے والے لڑکے ہوں گے جن کا نظارہ اہل جنت کو خوش کر دے گا، وہ اپنی تابع داری کی بنا پر امن کے ساتھ ان کی آرام گاہ میں وہ چیزیں لے کر آئیں گے جو وہ منگوائیں گے اور جن کی ان کے نفس خواہش کریں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ويطوفُ}: على أهل الجنة في طعامهم وشرابهم وخدمتهم، {ولدانٌ مخلَّدون}؛ أي: خلقوا من الجنة للبقاء؛ لا يتغيَّرون ولا يكبرون، وهم في غاية الحسن، {إذا رأيتَهم}: منتشرين في خدمتهم، {حسبتَهم}: من حسنهم {لؤلؤاً منثوراً}: وهذا من تمام لذَّة أهل الجنة؛ أن يكون خُدَّامُهم الولدان المخلَّدون، الذين تَسُرُّ رؤيتُهم، ويدخُلون في مساكنهم آمنين من تَبِعَتِهِم، ويأتونَهم بما يدَّعون وتطلُبُه نفوسُهم.