تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَیُسْقَوْنَفِیْهَا ﴾”وہاں انھیں پلائی جائے گی۔“ یعنی جنت میں خالص شراب کے جام بھرے ہوں گے ﴿ كَانَمِزَاجُهَا ﴾ جس میں ملاوٹ ہوگی ﴿ زَنْجَبِیْلًا ﴾”سونٹھ کی۔“تاکہ اس کا ذائقہ اور خوشبو دونوں خو ش گوار بن جائیں۔
﴿ عَیْنًافِیْهَا﴾”اس جنت میں ایک چشمہ ہے ﴿ تُ٘سَمّٰىسَلْسَبِیْلًا﴾”جس کا نام سلسبیل ہے۔“ اس کو یہ نام، اس کے آسانی کے ساتھ حاصل ہونے، اس کی لذت اور اس کی خوبصورتی کی وجہ سے دیا گیا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ويُسْقَوْنَ فيها}؛ أي: الجنة {كأساً}: وهو الإناء [المملوء] من خمرٍ ورحيقٍ. {كان مِزاجُها}؛ أي: خلطها {زنجبيلاً}: ليطيب طعمُه وريحُه. {عيناً فيها}؛ [أي: في الجنة] {تسمّى سَلْسَبيلاً}: سمِّيت بذلك لسلاستها ولذَّتها وحسنها.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔