تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المدثر (74) — آیت 8

فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوۡرِ ۙ﴿۸﴾
سو جب صور میں پھونکا جائے گا۔ En
جب صور پھونکا جائے گا
En
پس جب کہ صور میں پھونک ماری جائے گی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب مردوں کو قبروں سے کھڑا کرنے اور تمام خلائق کو دوبارہ زندہ کر کے حساب و کتاب کے لیے جمع کرنے کے لیے صور پھونکا جائے گا ﴿ فَذٰلِكَ یَوْمَىِٕذٍ یَّوْمٌ عَسِیْرٌ تو ہولناکیوں اور سختیوں کی کثرت کی بنا پر وہ دن بڑا ہی سخت ہو گا۔ ﴿ عَلَى الْ٘كٰفِرِیْنَ غَیْرُ یَسِیْرٍکافروں پرآسان نہ ہوگا۔ کیونکہ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو چکے ہوں گے اور انھیں اپنی ہلاکت اور تباہی کا یقین ہوجائے گا۔ اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ وہ دن اہل ایمان پر آسان ہو گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ یَقُوْلُ الْ٘كٰفِرُوْنَ هٰؔذَا یَوْمٌ عَسِرٌ (القمر:54؍8) کفار کہیں گے کہ یہ دن بڑا ہی سخت ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: فإذا نُفِخَ في الصُّور للقيام من القبور، وجُمِعَ الخلائق للبعث والنشور، {فذلك يومئذٍ يومٌ عسيرٌ}: لكثرة أهواله وشدائده، {على الكافرين غيرُ يسيرٍ}؛ لأنَّهم قد أيِسوا من كلِّ خيرٍ وأيقنوا بالهلاك والبَوار. ومفهومُ ذلك أنَّه على المؤمنين يسيرٌ؛ كما قال تعالى: {يقول الكافرون هذا يومٌ عَسِرٌ}.