تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المدثر (74) — آیت 32

کَلَّا وَ الۡقَمَرِ ﴿ۙ۳۲﴾
ہرگز نہیں، چاند کی قسم! En
ہاں ہاں (ہمیں) چاند کی قسم
En
سچ کہتا ہوں قسم ہے چاند کی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ كَلَّا یہاں بمعنی (حَقًا) یا بمعنی (ألَا) استفتاحیہ کے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاند اور رات کی قسم کھائی جس وقت وہ پیچھے ہٹے اور دن کی قسم کھائی جس وقت وہ خوب روشن ہو کیونکہ یہ مذکورہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں پر مشتمل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت و حکمت، لا محدود قوت، بے پایاں رحمت اور اس کے احاطۂ علم پر دلالت کرتی ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{كلاَّ}: هنا بمعنى حقًّا، أو بمعنى ألا الاستفتاحية، فأقسم تعالى بالقمر، وبالليل وقتَ إدباره، والنهارِ وقتَ إسفاره؛ لاشتمال المذكورات على آيات الله العظيمة الدالَّة على كمال قدرةِ الله وحكمته وسعة سلطانه وعموم رحمته وإحاطة علمه.