تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے کہ ﴿الْ٘مُزَّمِّلُ﴾ اور ﴿الْمُدَّثِّ٘رُ﴾کا ایک ہی معنی ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ آپ اللہ تعالیٰ کی عبادات قاصرہ اور متعدیہ میں پوری کوشش کریں۔ وہاں یہ بھی گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عبادات فاضلہ و قاصرہ اور اپنی قوم کی اذیت رسانی پر صبر کرنے کا حکم دیا۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کوحکم دیا کہ آپ اپنی نبوت کا اعلان فرما دیں اور کھلم کھلا لوگوں کو تنبیہ کریں، چنانچہ فرمایا: ﴿قُمْ﴾ یعنی کوشش اور نشاط کے ساتھ کھڑے ہوں ﴿ فَاَنْذِرْ﴾ یعنی لوگوں کو ایسے اقوال و افعال کے ذریعے سے تنبیہ کیجیے، جن سے مقصد حاصل ہو، ان امور کا حال بیان کر کے ڈرائیے جن سے متنبہ کرنا مطلوب ہے تاکہ یہ اس کو ترک کرنے پر زیادہ آمادہ کرے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
تقدَّم أنَّ المزَّمِّل والمدَّثر بمعنى واحد، وأنَّ الله أمر رسوله - صلى الله عليه وسلم - بالاجتهاد في عبادات الله القاصرة والمتعدِّية، فتقدَّم هناك الأمر له بالعبادات الفاضلة القاصرة، والصبر على أذى قومه، وأمره هنا بالإعلان بالدَّعوة والصَّدْع بالإنذار، فقال: {قمْ}؛ أي: بجدٍّ ونشاطٍ {فأنذِرْ}: الناس بالأقوال والأفعال التي يحصلُ بها المقصودُ وبيانُ حال المنذَر عنه ليكون ذلك أدعى لتركه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔