تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تعالیٰ نے رات کے قیام کے حکم کی حکمت بیان کی ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿اِنَّنَاشِئَةَالَّیْلِ﴾ یعنی رات کو سو کر اٹھنے کے بعد نماز پڑھنا ﴿هِیَاَشَدُّوَطْاًوَّاَ٘قْوَمُقِیْلًا﴾ نفس پر قابو پانے کے لیے بہت کارگر اور قرآن کے مقصد کے حصول کے زیادہ قریب ہے۔ قلب و لسان اس سے مطابقت رکھتے ہیں، اس وقت مشاغل کم ہوتے ہیں اور جو کچھ وہ پڑھتا ہے اس کا فہم حاصل ہوتا ہے اور اس کا معاملہ درست ہو جاتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم ذكر الحكمة في أمره بقيام الليل، فقال: {إنَّ ناشئةَ الليل}؛ أي: الصلاة فيه بعد النوم، {هي أشدُّ وطئاً وأقومُ قيلاً}؛ أي: أقرب إلى حصول مقصود القرآن؛ يتواطأ عليه القلب واللسان، وتقلُّ الشواغل، ويفهم ما يقول، ويستقيم له أمره.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔