تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المزمل (73) — آیت 6

اِنَّ نَاشِئَۃَ الَّیۡلِ ہِیَ اَشَدُّ وَطۡاً وَّ اَقۡوَمُ قِیۡلًا ؕ﴿۶﴾
بلاشبہ رات کو اٹھنا(نفس کو) کچلنے میں زیادہ سخت اور بات کرنے میں زیادہ درستی والا ہے۔ En
کچھ شک نہیں کہ رات کا اٹھنا (نفس بہیمی) کو سخت پامال کرتا ہے اور اس وقت ذکر بھی خوب درست ہوتا ہے
En
بیشک رات کا اٹھنا دل جمعی کے لیے انتہائی مناسب ہے اور بات کو بہت درست کر دینے واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تعالیٰ نے رات کے قیام کے حکم کی حکمت بیان کی ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿اِنَّ نَاشِئَةَ الَّیْلِ یعنی رات کو سو کر اٹھنے کے بعد نماز پڑھنا ﴿هِیَ اَشَدُّ وَطْاً وَّاَ٘قْوَمُ قِیْلًا نفس پر قابو پانے کے لیے بہت کارگر اور قرآن کے مقصد کے حصول کے زیادہ قریب ہے۔ قلب و لسان اس سے مطابقت رکھتے ہیں، اس وقت مشاغل کم ہوتے ہیں اور جو کچھ وہ پڑھتا ہے اس کا فہم حاصل ہوتا ہے اور اس کا معاملہ درست ہو جاتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم ذكر الحكمة في أمره بقيام الليل، فقال: {إنَّ ناشئةَ الليل}؛ أي: الصلاة فيه بعد النوم، {هي أشدُّ وطئاً وأقومُ قيلاً}؛ أي: أقرب إلى حصول مقصود القرآن؛ يتواطأ عليه القلب واللسان، وتقلُّ الشواغل، ويفهم ما يقول، ويستقيم له أمره.