تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المزمل (73) — آیت 17

فَکَیۡفَ تَتَّقُوۡنَ اِنۡ کَفَرۡتُمۡ یَوۡمًا یَّجۡعَلُ الۡوِلۡدَانَ شِیۡبَۨا ﴿٭ۖ۱۷﴾
پھر تم کیسے بچو گے اگر تم نے کفر کیا، اس دن سے جو بچوں کو بوڑھے کر دے گا۔ En
اگر تم بھی (ان پیغمبروں کو) نہ مانو گے تو اس دن سے کیونکر بچو گے جو بچّوں کو بوڑھا کر دے گا
En
تم اگر کافر رہے تو اس دن کیسے پناه پاؤ گے جو دن بچوں کو بوڑھا کردے گا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی قیامت کے روز کیسے نجات حاصل ہو سکتی ہے، وہ ایسا دن ہے جس کا معاملہ نہایت ہولناک اور جس کا خطرہ بہت عظیم ہو گا۔ جو بچوں کو بوڑھا، اور بڑے بڑے جمادات کو پگھلا کر رکھ دے گا، پس (اس کے خوف سے) آسمان پھٹ جائے گا اور ستارے بکھر جائیں گے۔ ﴿ كَانَ وَعْدُهٗ مَفْعُوْلًایعنی اس کا وقوع لا زمی ہے، کوئی چیز اس کے سامنے حائل نہیں ہو سکتی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: فكيف يحصلُ لكم الفكاكُ والنَّجاة يومَ القيامةِ، اليوم المَهيل أمرُه، العظيمُ خطرُه ، الذي يشيِّبُ الولدان وتذوبُ له الجمادات العظام؛ فتنفطر السماء وتنتثر نجومُها. {كان وعدُه مفعولاً}؛ أي: لا بدَّ من وقوعه ولا حائل دونه.