تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الجن (72) — آیت 28

لِّیَعۡلَمَ اَنۡ قَدۡ اَبۡلَغُوۡا رِسٰلٰتِ رَبِّہِمۡ وَ اَحَاطَ بِمَا لَدَیۡہِمۡ وَ اَحۡصٰی کُلَّ شَیۡءٍ عَدَدًا ﴿٪۲۸﴾
تاکہ جان لے کہ انھوں نے واقعی اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیے ہیں اور اس نے ان تمام چیزوں کااحاطہ کر رکھا ہے جو ان کے پاس ہیں اور ہر چیز کو گن کر شمار کر رکھا ہے۔ En
تاکہ معلوم فرمائے کہ انہوں نے اپنے پروردگار کے پیغام پہنچا دیئے ہیں اور (یوں تو) اس نے ان کی سب چیزوں کو ہر طرف سے قابو کر رکھا ہے اور ایک ایک چیز گن رکھی ہے
En
تاکہ ان کے اپنے رب کے پیغام پہنچا دینے کا علم ہو جائے اللہ تعالیٰ نے ان کے آس پاس (کی تمام چیزوں) کا احاطہ کر رکھا ہے اور ہر چیز کی گنتی شمار کر رکھا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ لِّیَعْلَمَ تاکہ اسے معلوم ہو جائے ﴿ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰؔلٰتِ رَبِّهِمْ کہ انھوں نے اپنے رب کے پیغام پہنچادیے ہیں۔ ان اسباب کے ذریعے سے جو ان کے لیے اس نے مہیا کیے ﴿ وَاَحَاطَ بِمَا لَدَیْهِمْ اور جو کچھ ان کے پاس ہے اس کا احاطہ کیا ہوا ہے۔، یعنی جو کچھ ان کے پاس ہے جسے وہ چھپاتے ہیں اور جسے وہ ظاہر کرتے ہیں۔ ﴿ وَاَحْصٰى كُ٘لَّ شَیْءٍ عَدَدًا اور ہر چیز کو اس نے شمار کر رکھا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ليعلم} بذلك {أن قد أبْلَغوا رسالات ربِّهم}: بما جعله لهم من الأسباب، {وأحاط بما لَدَيْهم}؛ أي: بما عندهم وما أسرُّوه وما أعلنوه، {وأحصى كلَّ شيءٍ عدداً}.