تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ نوح (71) — آیت 5

قَالَ رَبِّ اِنِّیۡ دَعَوۡتُ قَوۡمِیۡ لَیۡلًا وَّ نَہَارًا ۙ﴿۵﴾
اس نے کہا اے میرے رب! بلاشبہ میں نے اپنی قوم کو رات اور دن بلایا۔ En
جب لوگوں نے نہ مانا تو (نوحؑ نے) خدا سے عرض کی کہ پروردگار میں اپنی قوم کو رات دن بلاتا رہا
En
(نوح علیہ السلام نے) کہا اے میرے پرورگار! میں نے اپنی قوم کو رات دن تیری طرف بلایا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پس انھوں نے نوح علیہ السلام کی دعوت کو قبول کیا نہ ان کے حکم کی اطاعت کی تو حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے رب سے شکوہ کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّیْ دَعَوْتُ قَوْمِیْ لَیْلًا وَّنَهَارًاۙ۰۰ فَلَمْ یَزِدْهُمْ دُعَآءِیْۤ اِلَّا فِرَارًا میرے رب! میں اپنی قوم کو دن رات بلاتا رہا لیکن وہ میرے بلانے سے اور زیادہ گریز کرتے رہے۔ یعنی حق سے نفرت اور اس سے روگردانی میں اضافہ ہی ہوا۔ پس دعوت کا کوئی فائدہ باقی نہ رہا کیونکہ دعوت کا فائدہ تب ہے کہ دعوت کے تمام مقاصد یا ان سے کچھ مقاصد حاصل ہوں۔
﴿ وَاِنِّیْ كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ اور میں نے جب بھی ان کو پکارا تاکہ تو ان کو بخش دے۔ یعنی اس وجہ سے کہ وہ اس دعوت کو قبول کریں جب وہ دعوت کو قبول کر لیں گے تو ان کو بخش دیا جائے گا اور اس میں محض ان کی مصلحت ہے۔ مگر وہ اپنے باطل پر مصر اور حق سے دور بھاگتے رہے ﴿ جَعَلُوْۤا اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ انھوں نے کانوں میں انگلیاں دے لیں۔ اس ڈر سے کہ کہیں وہ باتیں ان کے کان میں نہ پڑ جائیں جو ان سے، ان کا نبی، نوح علیہ السلام کہتا ہے۔ ﴿ وَاسْتَغْشَوْا ثِیَابَهُمْ یعنی حق سے بعد اور بغض کی بنا پر، اپنے آپ کو کپڑوں سے ڈھانپ کر پردہ کر لیا ﴿ وَاَصَرُّوْا اور انھوں نے اپنے کفر اور شر پر اصرار کیا ﴿ وَاسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًا اور حق کے مقابلے میں تکبر کیا، پس ان کا شر بڑھ گیا اور بھلائی ان سے دور ہو گئی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فلم يجيبوا لدعوته، ولا انقادوا لأمره، فقال شاكياً لربِّه: {ربِّ إنِّي دعوتُ قومي ليلاً ونهاراً. فلم يزِدْهم دعائي إلاَّ فراراً}؛ أي: نفوراً عن الحقِّ وإعراضاً، فلم يبق لذلك فائدةٌ؛ لأنَّ فائدة الدَّعوة أن يحصل جميع المقصود أو بعضه، {وإنِّي كلَّما دعوتُهم لتغفرَ لهم}؛ أي: لأجل أن يستجيبوا؛ فإذا استجابوا؛ غفرتَ لهم، وهذا محضُ مصلحتهم، ولكن أبوا إلاَّ تمادياً على باطلهم ونفوراً عن الحقِّ، {جعلوا أصابِعَهم في آذانهم}؛ حَذَرَ سماع ما يقول لهم نبيُّهم نوحٌ عليه السلام، {واستَغْشَوا ثيابَهم}؛ أي: تغطوا بها غطاءً يغشاهم بعداً عن الحقِّ وبغضاً له، {وأصرُّوا}: على كفرهم وشرِّهم، {واستَكْبَروا}: على الحقِّ {استِكْباراً}: فشرهم ازداد وخيرهم بعد.