تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ نوح (71) — آیت 28

رَبِّ اغۡفِرۡ لِیۡ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِمَنۡ دَخَلَ بَیۡتِیَ مُؤۡمِنًا وَّ لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ ؕ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیۡنَ اِلَّا تَبَارًا ﴿٪۲۸﴾
اے میرے رب! مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو اور اس کو جو مومن بن کر میرے گھر میں داخل ہو اور ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو اور ظالموں کو ہلاکت کے سوا کسی چیز میں نہ بڑھا۔ En
اے میرے پروردگار مجھ کو اور میرے ماں باپ کو اور جو ایمان لا کر میرے گھر میں آئے اس کو اور تمام ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو معاف فرما اور ظالم لوگوں کے لئے اور زیادہ تباہی بڑھا
En
اے میرے پروردگار! تو مجھے اور میرے ماں باپ اور جو بھی ایمان کی حالت میں میرے گھر میں آئے اور تمام مومن مردوں اور عورتوں کو بخش دے اور کافروں کو سوائے بربادی کے اور کسی بات میں نہ بڑھا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ رَبِّ اغْ٘فِرْ لِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَیْتِیَ مُؤْمِنًا اے میرے رب! مجھے میرے ماں باپ کو اور اس کو جو ایمان لاکر میرے گھر میں آئے بخش دے۔ حضرت نوح علیہ السلام نے (اپنی دعا کے لیے) مذکورہ لوگوں کو مختص کیا کیونکہ ان کے حق مؤکد اور ان کے ساتھ نیکی مقدم ہے، پھر اپنی دعا کو عام کرتے ہوئے کہا: ﴿ وَّلِلْمُؤْمِنِیْنَ۠ وَالْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَلَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا تَبَارًؔا اورایمان والے مردوں اور عورتوں کو معاف فرما اور ظالم لوگوں کے لیے اور زیادہ تباہی بڑھا۔ یعنی ظالموں کے لیے حسرت، تباہی اور ہلاکت میں اضافہ کر۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ربِّ اغفِرْ لي ولوالديَّ ولِمَنْ دَخَلَ بيتي مؤمناً}: خصَّ المذكورين لتأكُّد حقِّهم وتقديم برِّهم، ثم عمَّم الدُّعاء، فقال: {وللمؤمنين والمؤمنات ولا تزِدِ الظالمينَ إلا تَباراً}؛ أي: خساراً ودماراً وهلاكاً.