تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ مَالَكُمْلَاتَرْجُوْنَلِلّٰهِوَقَارًا﴾ تمھیں کیا ہے، تم اللہ تعالیٰ کی تعظیم کے لیے اس سے خوف نہیں کھاتے اور تمھارے ہاں اللہ تعالیٰ کی کوئی قدر نہیں؟ ﴿ وَقَدْخَلَقَكُمْاَطْوَارًا﴾”حالانکہ اس نے تمھیں مختلف اطوار میں پیدا کیا۔“ یعنی ماں کے پیٹ میں، تخلیق کے مختلف مراحل میں پیدا کیا، پھر رضاعت، پھر سن طفولیت، پھر سن تمیز اور پھر جوانی میں منتقل کیا، پھر اس مرحلے میں لے گیا جہاں تمام مخلوق پہنچتی ہے۔ پس وہ ہستی جو تخلیق اور بے مثال تدبیر میں منفرد ہے، صرف اسی کے لیے عبادت اور توحید مختص ہے۔ بندوں کی تخلیق کی ابتدا کے ذکر میں معاد کی طرف اشارہ ہے اور وہ ہستی جو انھیں عدم سے وجود میں لائی، ان کے مرنے کے بعد انھیں دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ما لكم لا ترجونَ لله وَقارا}؛ أي: لا تخافون لله عظمةً وليس لله عندكم قَدْرٌ، {وقد خَلَقَكم أطواراً}؛ أي: خلقاً من بعد خلقٍ في بطن الأمِّ ثم في الرَّضاع ثم في سنِّ الطفوليَّة ثم التمييز ثم الشباب ثم إلى آخر ما يصل إليه الخلق؛ فالذي انفردَ بالخَلْق والتَّدبير البديع متعيَّنٌ أن يُفْرَدَ بالعبادة والتوحيد، وفي ذكر ابتداء خلقهم تنبيهٌ لهم على المعاد ، وأنَّ الذي أنشأهم من العدم قادرٌ على أن يعيدَهم بعد موتهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔