تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المعارج (70) — آیت 8

یَوۡمَ تَکُوۡنُ السَّمَآءُ کَالۡمُہۡلِ ۙ﴿۸﴾
جس دن آسمان پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہو جائے گا۔ En
جس دن آسمان ایسا ہو جائے گا جیسے پگھلا ہوا تانبا
En
جس دن آسمان مثل تیل کی تلچھٹ کے ہو جائے گا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ یَوْمَ یعنی قیامت کے دن جس میں یہ بڑے بڑے واقعات وقوع میں آئیں گے ﴿ تَكُوْنُ السَّمَآءُ كَالْ٘مُهْلِ آسمان ہوجائے گا مہل کی طرح۔ اور وہ پگھلا ہوا سیسہ ہے۔ آسمان کے پھٹ جانے اور بے انتہا ہولناکی کے باعث آسمان پگھلے ہوئے سیسے کی مانند ہو جائے گا۔ ﴿ وَتَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْ٘عِهْنِ اور پہاڑ ہوجائیں گے روئی کی طرح۔ اور وہ ہے دھنکی ہوئی اون، اس کے بعد اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے اور ختم ہو جائیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: {يوم} القيامة تقع فيه هذه الأمور العظيمة {تكونُ السماءُ كالمُهْل}: وهو الرصاص المذاب من تشقُّقها وبلوغ الهول منها كلَّ مبلغ، {وتكونُ الجبالُ كالعِهْن}: وهو الصوف المنفوش، ثم تكون بعد ذلك هباءً منثوراً فتضمحلُّ.