تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المعارج (70) — آیت 40

فَلَاۤ اُقۡسِمُ بِرَبِّ الۡمَشٰرِقِ وَ الۡمَغٰرِبِ اِنَّا لَقٰدِرُوۡنَ ﴿ۙ۴۰﴾
پس نہیں! میں قسم کھاتا ہوں مشرقوں اور مغربوں کے رب کی! کہ بےشک ہم یقیناً قدرت رکھنے والے ہیں۔ En
ہمیں مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی قسم کہ ہم طاقت رکھتے ہیں
En
پس مجھے قسم ہے مشرقوں اور مغربوں کے رب کی (کہ) ہم یقیناً قادر ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مشارق و مغارب، سورج، چاند اور ستاروں کی قسم ہے۔ کیونکہ ان میں قیامت پر اور ان کی مانند ایسے لوگ لے آنے میں اس کی قدرت پر بڑی بڑی نشانیاں ہیں جو عین انھی کی طرح ہوں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿ وَنُنْشِئَؔكُمْ فِیْ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ (الواقعہ:56؍61) اور ہم تمھیں ایسے جہان میں پیدا کریں جس کو تم نہیں جانتے۔ ﴿ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِیْنَ۠ یعنی اگر ہم کسی کو دوبارہ زندہ کریں تو وہ ہم پر سبقت لے جا سکتا ہے اور نہ ہم سے آگے بڑھ سکتا ہے اور نہ ہمیں عاجز کر سکتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هذا إقسامٌ منه تعالى بالمشارق والمغارب للشمس والقمر والكواكب؛ لما فيها من الآيات الباهرات على البعث وقدرته على تبديل أمثالهم وهم بأعيانهم؛ كما قال تعالى: {وننشِئُكم فيما لا تعلمونَ}. {وما نحنُ بمسبوقينَ}؛ أي: ما أحدٌ يسبقنا ويفوتنا ويعجِزُنا إذا أردنا أن نعيدَه.