تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المعارج (70) — آیت 22

اِلَّا الۡمُصَلِّیۡنَ ﴿ۙ۲۲﴾
سوائے نماز ادا کرنے والوں کے۔ En
مگر نماز گزار
En
مگر وه نمازی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اِلَّا الْمُصَلِّ٘یْ٘نَ سوائے ان نمازیوں کے جو ان اوصاف سے موصوف ہیں، کیونکہ جب ان کو بھلائی حاصل ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے اور اس کے راستے میں وہ مال خرچ کرتے ہیں جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بہرہ مند کیا ہے، جب انھیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتے ہیں اور ثواب کی امید رکھتے ہیں۔
ان کے وصف میں فرمایا: ﴿ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ دَآىِٕمُوْنَ یعنی نماز پر، اس کی تمام شرائط اور اس کی تکمیل کرنے والے دیگر امور کے ساتھ اس کے اوقات میں ہمیشگی کرتے ہیں۔ وہ اس شخص کی مانند نہیں ہیں جو نماز نہیں پڑھتا یا جو بے وقت پڑھتا ہے یا وہ نماز پڑھتا ہے مگر ناقص طریقے سے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إلاَّ المصلِّين}: الموصوفين بتلك الأوصاف؛ فإنَّهم إذا مسَّهم الخير؛ شكروا الله وأنفقوا مما خوَّلهم [الله]، وإذا مسَّهم الشرُّ؛ صبروا واحتسبوا. وقوله في وصفهم: {الذين هم على صلاتهم دائمونَ}؛ أي: مداومون عليها في أوقاتها بشروطها ومكمِّلاتها، وليسوا كمن لا يفعلها، أو يفعلها وقتاً دون وقتٍ، أو يفعلها على وجهٍ ناقص.