تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 84

وَ اَمۡطَرۡنَا عَلَیۡہِمۡ مَّطَرًا ؕ فَانۡظُرۡ کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الۡمُجۡرِمِیۡنَ ﴿٪۸۴﴾
اور ہم نے ان پر بارش برسائی، ایک زبردست بارش۔ پس دیکھ مجرموں کا انجام کیسا ہوا؟ En
اور ہم نے ان پر (پتھروں کا) مینھ برسایا۔ سو دیکھ لو کہ گنہگاروں کا کیسا انجام ہوا
En
اور ہم نے ان پر خاص طرح کا مینہ برسایا پس دیکھو تو سہی ان مجرموں کا انجام کیسا ہوا؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَاَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا اور ہم نے ان پر (پتھروں کا) مینہ برسایا۔ یعنی ہم نے سخت گرم کھنگر کے پتھر ان پر برسائے اور اللہ تعالیٰ نے اس بستی کو الٹ کر اوپر نیچے کر دیا۔ ﴿ فَانْ٘ظُ٘رْؔ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ پس دیکھو، کیا ہوا انجام گناہ گاروں کا۔ ہلاکت اور دائمی رسوائی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وأمطَرْنا عليهم مطراً}؛ أي: حجارة حارَّة شديدةً من سِجِّيل، وجعل الله عالِيَها سافِلَها، {فانظرْ كيف كان عاقبةُ المجرِمين}: الهلاك والخزي الدائم.