اور کیا تم نے عجیب سمجھا کہ تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے تم میں سے ایک آدمی پر ایک عظیم الشان نصیحت آئی، تاکہ وہ تمھیں ڈرائے اور تاکہ تم بچ جائو اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
En
کیا تم کو اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک شخص کے ہاتھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس نصیحت آئی تاکہ وہ تم کو ڈرائے اور تاکہ تم پرہیزگار بنو اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے
اور کیا تم اس بات سے تعجب کرتے ہو کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس ایک ایسے شخص کی معرفت، جو تمہاری ہی جنس کا ہے، کوئی نصیحت کی بات آگئی تاکہ وه شخص تم کو ڈرائے اور تاکہ تم ڈرجاؤ اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿اَوَعَجِبْتُمْاَنْجَآءَكُمْذِكْرٌمِّنْرَّبِّكُمْعَلٰىرَجُلٍمِّؔنْكُمْ ﴾”کیا تم کو اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک شخص کے ہاتھ تمھارے رب کی طرف سے تمھارے پاس نصیحت آئی۔“ یعنی تم اس حالت پر کیوں کر تعجب کرتے ہو جس پر تعجب نہیں ہونا چاہیے وہ یہ کہ تمھارے پاس تم ہی میں سے ایک شخص کے ذریعے سے، جس کی حقیقت، صداقت اور حال سے تم واقف ہو، اللہ تعالیٰ کی طرف سے یاد دہانی، نصیحت اور خیر خواہی آئی؟ یہ صورت حال تم پر اللہ تعالیٰ کی عنایت اور اس کا احسان ہے جس کو شکر گزاری کے ساتھ قبول کیا جانا چاہیے۔ ﴿ لِیُنْذِرَؔكُمْوَلِتَتَّقُوْاوَلَعَلَّكُمْتُرْحَمُوْنَ﴾”تاکہ وہ تمھیں ڈرائے اور تاکہ تم پرہیز گار بنو اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔“ یعنی تاکہ وہ تمھیں دردناک عذاب سے ڈرائے اور تاکہ تم ظاہری اور باطنی طور پر تقویٰ پر عمل کر کے اپنے لیے نجات کے اسباب مہیا کرو۔ اس طرح اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت حاصل ہوتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{أوَعَجِبْتُم أن جاءكم ذِكْرٌ من ربِّكم على رجل منكم}؛ أي: كيف تعجبون من حالة لا ينبغي العجب منها، وهو أن جاءكم التذكير والموعظة والنصيحة على يد رجل منكم، تعرفون حقيقتَه وصدقَه وحالَه؛ فهذه الحال من عناية الله بكم وبرِّه وإحسانه الذي يُتَلَقَّى بالقبول والشكر. وقوله: {لِيُنذِرَكُم ولتتَّقوا ولعلَّكم تُرحمون}؛ أي: لينذركم العذاب الأليم، وتفعلوا الأسباب المنجية من استعمال تقوى الله ظاهراً وباطناً، وبذلك تحصُلُ عليهم، وتنزل رحمة الله الواسعة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔