بلاشبہ یقینا ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تو اس نے کہا اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں، بے شک میں تم پر ایک بہت بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔
En
ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو انہوں نے (ان سے کہا) اے میری برادری کے لوگو خدا کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ مجھے تمہارے بارے میں بڑے دن کے عذاب کا (بہت ہی) ڈر ہے
ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا توانہوں نے فرمایا اے میری قوم! تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود ہونے کے قابل نہیں، مجھ کو تمہارے لئے ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
چنانچہ جناب نوح علیہ السلام، جو اولین رسول ہیں، کے بارے میں فرمایا: ﴿لَقَدْاَرْسَلْنَانُوْحًااِلٰىقَوْمِهٖ ﴾”ہم نے نوح علیہ السلام کو ان کی قوم کی طرف بھیجا۔“ حضرت نوح کفار کو اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف دعوت دیتے تھے جبکہ وہ بتوں کی پوجا کرتے تھے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ جناب نوح نے ان سے فرمایا ﴿ یٰقَوْمِاعْبُدُوااللّٰهَ ﴾”اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔“ یعنی صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔ ﴿ مَالَكُمْمِّنْاِلٰهٍغَیْرُهٗ ﴾”اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں “ کیونکہ وہی خالق و رازق اور تمام امور کی تدبیر کرنے والا ہے اور اس کے سوا ہر چیز مخلوق اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر و تصرف کے تحت ہے اور کسی معاملے میں اسے کوئی اختیار نہیں، پھر انھیں عدم اطاعت کی صورت میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈراتے ہوئے فرمایا: ﴿اِنِّیْۤاَخَافُعَلَیْكُمْعَذَابَیَوْمٍعَظِیْمٍ ﴾”میں ڈرتا ہوں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب سے“ یہ ان کے لیے جناب نوح علیہ السلام کی خیر خواہی اور شفقت ہے کہ وہ ان کے بارے میں ابدی عذاب اور دائمی بدبختی سے خائف ہیں جیسے ان کے بھائی دیگر انبیا و مرسلین مخلوق پر ان کے ماں باپ سے زیادہ شفقت رکھتے تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فقال عن نوح أول المرسلين: {لقد أرسلنا نوحاً إلى قومه}: يدعوهم إلى عبادة الله وحده حين كانوا يعبدُون الأوثان، {فقال}: لهم: {يا قوم اعبُدوا الله}؛ أي: وحدوه، {ما لكم من إلهٍ غيرُهُ}: لأنه الخالق الرازق المدبِّر لجميع الأمور، وما سواه مخلوقٌ مدبَّر ليس له من الأمر شيء. ثم خوَّفهم إن لم يطيعوه عذابَ الله، فقال: {إنِّي أخافُ عليكم عذابَ يوم عظيم}: وهذا من نصحه عليه الصلاة والسلام وشفقته عليهم؛ حيث خاف عليهم العذاب الأبديَّ والشقاء السرمديَّ؛ كإخوانه من المرسلين، الذين يشفِقون على الخَلْق أعظم من شفقة آبائهم وأمهاتهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔