تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 55

اُدۡعُوۡا رَبَّکُمۡ تَضَرُّعًا وَّ خُفۡیَۃً ؕ اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الۡمُعۡتَدِیۡنَ ﴿ۚ۵۵﴾
اپنے رب کو گڑ گڑا کر اور خفیہ طور پر پکارو، بے شک وہ حد سے بڑھنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔ En
(لوگو) اپنے پروردگار سے عاجزی سے اور چپکے چپکے دعائیں مانگا کرو۔ وہ حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا
En
تم لوگ اپنے پروردگار سے دعا کیا کرو گڑگڑا کر کے بھی اور چپکے چپکے بھی۔ واقعی اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ناپسند کرتا ہے جو حد سے نکل جائیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

دعا میں دعائے مسئلہ اور دعائے عبادت دونوں شامل ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ وہ اسے پکاریں ﴿ تَضَرُّعًا عاجزی سے۔ یعنی گڑگڑا کر اللہ تعالیٰ سے مانگیں اور جم کر اس کی عبادت کریں۔ ﴿ وَّخُفْیَةً اور چپکے سے۔ یعنی بآواز بلند اور اعلانیہ نہ گڑگڑائیں جس سے ریا کا خدشہ ہو بلکہ چھپ چھپ کر خالص اللہ تعالیٰ کے لیے آہ و زاری کریں ﴿اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ وہ حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔ یعنی تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ یہ بھی حد سے تجاوز ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ سے ایسی چیزوں کا سوال کرے جو بندے کے لیے درست نہیں یا وہ سرے سے سوال کرنا ہی چھوڑ دے یا وہ بہت زیادہ بلند آواز میں دعا مانگے۔ یہ تمام امور تجاوز حدود میں شامل ہیں جو ممنوع ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

الدعاء يدخل فيه دعاء المسألة ودعاء العبادة، فأمر بدعائه {تضرعاً}؛ أي: إلحاحاً في المسألة ودؤوباً في العبادة، {وخُفية}؛ أي: لا جهراً وعلانيةً يُخاف منه الرياء، بل خفية وإخلاصاً لله تعالى. {إنه لا يحبُّ المعتدين}؛ أي: المتجاوزين للحدِّ في كل الأمور، ومن الاعتداء كون العبد يسأل الله مسائل لا تصلح له، أو يتنطع في السؤال، أو يبالغ في رفع صوته بالدعاء؛ فكلُّ هذا داخل في الاعتداء المنهيِّ عنه.