اور ان بلندیوں والے کچھ مردوں کو آواز دیں گے، جنھیں وہ ان کی نشانی سے پہچانتے ہوں گے، کہیں گے تمھارے کام نہ تمھاری جماعت آئی اور نہ جو تم بڑے بنتے تھے۔
En
اور اہل اعراف (کافر) لوگوں کو جنہیں ان کی صورتوں سے شناخت کرتے ہوں گے پکاریں گے اور کہیں گے (کہ آج) نہ تو تمہاری جماعت ہی تمہارے کچھ کام آئی اور نہ تمہارا تکبّر (ہی سودمند ہوا)
اور اہل اعراف بہت سے آدمیوں کو جن کو کہ ان کے قیافہ سے پہچانیں گے پکاریں گے کہیں گے کہ تمہاری جماعت اور تمہارا اپنے کو بڑا سمجھنا تمہارے کچھ کام نہ آیا
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عمومی ذکر کے بعد اللہ تعالیٰ نے خصوصی ذکر کرتے ہوئے فرمایا ﴿وَنَادٰۤىاَصْحٰؔبُالْاَعْرَافِرِجَالًایَّعْرِفُوْنَهُمْبِسِیْمٰىهُمْ ﴾”اور اعراف والے پکاریں گے ان لوگوں کو کہ ان کو پہچانتے ہوں گے ان کی نشانی سے۔“اور وہ اہل جہنم ہوں گے، وہ دنیا میں شرف و آبرو اور مال و اولاد والے تھے۔۔۔۔ ان کو اکیلے عذاب میں مبتلا دیکھ کر کہ اب ان کا کوئی حامی و ناصر نہیں۔۔۔ کہیں گے: ﴿ مَاۤاَغْ٘نٰىعَنْكُمْجَمْعُكُمْ ﴾”آج تمھاری جماعت تمھارے کچھ کام نہ آئی۔“ یہاں تمھارے وہ جتھے کام نہ آئے جن کی مدد سے دنیا میں اپنی تکالیف دور کیا کرتے تھے۔ دنیاوی مطالب کے حصول کے لیے ان کو وسیلہ بنایا کرتے تھے۔ آج ہر چیز مضمحل ہوگئی اور کچھ بھی تمھارے کام نہ آیا اور اسی طرح حق، حق لانے والے اور حق کی اتباع کرنے والوں کے مقابلے میں تمھارے تکبر نے تمھیں کیا فائدہ دیا؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم ذكر الخصوص بعد العموم، فقال: {ونادى أصحابُ الأعراف رجالاً يعرفونهم بسيماهُم}: وهم من أهل النار، وقد كانوا في الدنيا لهم أبهة وشرفٌ وأموالٌ وأولادٌ، فقال لهم أصحاب الأعراف حين رأوهم منفردين في العذاب بلا ناصرٍ ولا مغيث: {ما أغنى عنكُم جمعُكم}: في الدُّنيا الذي تستدفِعون به المكاره، وتوسلون به إلى مطالبكم في الدُّنيا؛ فاليوم اضمحل ولا أغنى عنكم شيئاً، وكذلك أيُّ شيءٍ نفعكم استكباركم على الحقِّ وعلى ما جاء به وعلى مَن اتبعه؟!
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔