تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 24

قَالَ اہۡبِطُوۡا بَعۡضُکُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوٌّ ۚ وَ لَکُمۡ فِی الۡاَرۡضِ مُسۡتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰی حِیۡنٍ ﴿۲۴﴾
فرمایا اتر جاؤ، تمھارا بعض بعض کا دشمن ہے اور تمھارے لیے زمین میں ایک وقت تک ایک ٹھکانا اور کچھ (زندگی کا) سامان ہے۔ En
(خدا نے) فرمایا (تم سب بہشت سے) اتر جاؤ (اب سے) تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہارے لیے ایک وقت (خاص) تک زمین پر ٹھکانہ اور (زندگی کا) سامان (کر دیا گیا) ہے
En
حق تعالیٰ نے فرمایا کہ نیچے ایسی حالت میں جاؤ کہ تم باہم ایک دوسرے کے دشمن ہوگے اور تمہارے واسطے زمین میں رہنے کی جگہ ہے اور نفع حاصل کرنا ہے ایک وقت تک En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی اللہ تعالیٰ نے جناب آدم اور حوا علیہما السلام کو جمع کے صیغے کے ساتھ مخاطب کر کے نیچے اترنے کا حکم دیا کیونکہ ابلیس تو اس سے قبل اتارا جا چکا تھا، پھر سب زمین کی طرف اتارے گئے۔ آدم و حوا کے ساتھ ابلیس کو بھی بتکرار حکم دیا گیا تاکہ معلوم ہو کہ وہ ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ ہوں گے۔ کیونکہ ابلیس انسان سے کبھی جدا نہیں ہوتا بلکہ ہر وقت ساتھ رہتا ہے اور اولاد آدم کو گمراہ کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے۔
﴿ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ کا جملہ (اِھِبْطُوْا) کی ضمیر سے حال ہونے کی بنا پر نصب کے مقام پر ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم و حواء علیہما السلام اور شیطان سے کہا کہ سب جنت سے نکل کر زمین پر اتر جاؤ درآں حالیکہ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو زمین پر تمھارا ٹھکانا ہے، اس وقت تک، جب تک تمھارا زمین میں رہنا مقدر ہے۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے آدم علیہ السلام، ان کی بیوی اور ان کی اولاد کو زمین پر اتار دیا تو ان کو زمین کے اندر ان کے قیام کے احوال کے بارے میں آگاہ فرمایا کہ زمین کے اندر ان کے لیے ایک ایسی زندگی مقرر کر دی ہے جس کے تعاقب میں موت ہے جو ابتلاء و امتحان سے لبریز ہے۔ وہ اسی دنیا میں رہیں گے اللہ تعالیٰ ان کی طرف اپنے رسول بھیجے گا، ان پر کتاب نازل کرے گا۔ حتیٰ کہ ان پر موت آئے گی اور وہ اسی زمین میں دفن کر دیے جائیں گے، پھر جب وہ اپنی مدت پوری کر لیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو دوبارہ زندہ کرے گا اور اس دنیا سے نکال کر حقیقی گھر میں، جو دائمی قیام کا گھر ہے، داخل کرے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: لما أهبط الله آدم وزوجته وذريتهما إلى الأرض؛ أخبرهما بحال إقامتهم فيها، وأنه جعل لهم فيها حياةً، يتلوها الموتُ مشحونةً بالامتحان والابتلاء، وأنهم لا يزالون فيها، يرسِلُ إليهم رسلَه، ويُنْزِلُ عليهم كتبه، حتى يأتِيَهُمُ الموت فيدفَنون فيها، ثم إذا استكملوا بَعَثَهم اللهُ، وأخرجهم منها إلى الدارِ التي هي الدار حقيقة، التي هي دار المقامة.