تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 206

اِنَّ الَّذِیۡنَ عِنۡدَ رَبِّکَ لَا یَسۡتَکۡبِرُوۡنَ عَنۡ عِبَادَتِہٖ وَ یُسَبِّحُوۡنَہٗ وَ لَہٗ یَسۡجُدُوۡنَ ﴿۲۰۶﴾٪ٛ
بے شک جو لوگ تیرے رب کے پاس ہیں، وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے اور اس کی تسبیح کرتے ہیں اور اسی کو سجدہ کرتے ہیں۔ En
جو لوگ تمہارے پروردگار کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے گردن کشی نہیں کرتے اور اس پاک ذات کو یاد کرتے اور اس کے آگے سجدے کرتے رہتے ہیں
En
یقیناً جو تیرے رب کے نزدیک ہیں وه اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے اور اس کی پاکی بیان کرتے ہیں اور اس کو سجده کرتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس کے کچھ ایسے بندے بھی ہیں جو ہمیشہ اس کی عبادت اور خدمت میں مصروف رہتے ہیں ...اور وہ ہیں اللہ تعالیٰ کے فرشتے... تاکہ تمھیں معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ تمھاری کثرت عبادت سے کوئی کمی پوری کرنی چاہتا ہے، نہ تمھاری عبادت کے ذریعے سے ذلت سے نکل کر معزز ہونا چاہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمھاری عبادت کے ذریعے سے تمھیں ہی فائدہ دینا چاہتا ہے تاکہ تم اس کے ہاں اپنے اعمال سے کئی گنا زیادہ نفع حاصل کر سکو۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّكَ وہ لوگ جو آپ کے رب کے پاس ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے، عرش الٰہی کو اٹھانے والے فرشتے اور اس کے اشراف فرشتے ﴿ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ۠ عَنْ عِبَادَتِهٖ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے بلکہ اس کی عبادت کے لیے سرافگندہ اور اپنے رب کے احکام کے سامنے مطیع ہیں۔ ﴿ وَیُسَبِّحُوْنَهٗ اور اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں۔ رات دن اس کی تسبیح میں مگن رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر افترا پردازی نہیں کرتے۔ ﴿وَلَهٗ اور اس کے لیے۔ یعنی اللہ وحدہ لا شریک کے لیے ﴿ یَسْجُدُوْنَ سجدے کرتے ہیں۔ پس بندوں کو ان ملائکہ کرام کی پیروی کرنی چاہیے اور ہمیشہ اللہ، علم والے بادشاہ حقیقی کی عبادت میں مصروف رہنا چاہیے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم ذكر تعالى أن له عباداً مستديمين لعبادته، ملازمين لخدمته، وهم الملائكة. فلتعلموا أن الله لا يريدُ أن يتكثَّر بعبادتكم من قلَّة، ولا ليتعزَّز بها من ذِلَّة، وإنما يريدُ نفع أنفسكم، وأن تربحوا عليه أضعاف أضعاف ما عملتم، فقال: {إنَّ الذين عند ربِّك}: من الملائكة المقرَّبين وحملة العرش والكروبيين، {لا يستكبِرون عن عبادته}: بل يُذْعِنون لها وينقادون لأوامر ربِّهم، {ويسبِّحونه}: الليل والنهار لا يفترون. {وله} وحده لا شريك له {يسجُدون}: فليقتَدِ العبادُ بهؤلاء الملائكة الكرام، وليداوِموا على عبادة الملك العلاَّم.