تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 202

وَ اِخۡوَانُہُمۡ یَمُدُّوۡنَہُمۡ فِی الۡغَیِّ ثُمَّ لَا یُقۡصِرُوۡنَ ﴿۲۰۲﴾
اور جو ان (شیطانوں) کے بھائی ہیں وہ انھیں گمراہی میں بڑھاتے رہتے ہیں، پھر وہ کمی نہیں کرتے۔ En
اور ان (کفار) کے بھائی انہیں گمراہی میں کھینچے جاتے ہیں پھر (اس میں کسی طرح کی) کوتاہی نہیں کرتے
En
اور جو شیاطین کے تابع ہیں وه ان کو گمراہی میں کھینچے لے جاتے ہیں پس وه باز نہیں آتے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

رہے شیاطین کے بھائی اور ان کے دوست تو یہ جب کسی گناہ میں پڑ جاتے ہیں تو یہ اپنی گمراہی میں بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں، گناہ پر گناہ کرتے ہیں اور گناہ کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے، پس شیاطین بھی ان کو بد راہ کرنے میں کوتاہی نہیں کرتے کیونکہ جب وہ دیکھتے ہیں کہ وہ نہایت آسانی سے ان کے تابع ہو جاتے ہیں اور برائی کے ارتکاب میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کرتے تو وہ ان کی بدراہی کے بہت خواہش مند ہو جاتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وأما إخوان الشياطين وأولياؤهم؛ فإنهم إذا وقعوا في الذُّنوب لا يزالون يمدُّونهم في الغيِّ ذنباً بعد ذنبٍ، ولا يقصرون عن ذلك؛ فالشياطين لا تقصر عنهم بالإغواء؛ لأنها طمعت فيهم حين رأتهم سلسي القياد لها وهم لا يقصرون عن فعل الشرِّ.