تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 200

وَ اِمَّا یَنۡزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیۡطٰنِ نَزۡغٌ فَاسۡتَعِذۡ بِاللّٰہِ ؕ اِنَّہٗ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۲۰۰﴾
اور اگر کبھی شیطان کی طرف سے کوئی اکساہٹ تجھے ابھار ہی دے تو اللہ کی پناہ طلب کر، بے شک وہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ En
اور اگر شیطان کی طرف سے تمہارے دل میں کسی طرح کا وسوسہ پیدا ہو تو خدا سے پناہ مانگو۔ بےشک وہ سننے والا (اور) سب کچھ جاننے والا ہے
En
اور اگر آپ کو کوئی وسوسہ شیطان کی طرف سے آنے لگے تو اللہ کی پناه مانگ لیا کیجئے بلاشبہ وه خوب سننے واﻻ خوب جاننے واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَاِمَّا یَنْ٘زَغَنَّكَ مِنَ الشَّ٘یْطٰ٘نِ نَزْغٌ ابھارے آپ کو شیطان کی چھیڑ یعنی کسی وقت اور کسی حال میں بھی اگر آپ شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ، بھلائی کے راستے میں رکاوٹ، برائی کی ترغیب اور اکتاہٹ محسوس کریں ﴿ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ تو اللہ تعالیٰ کی پناہ لیجئے اور اس کی حفاظت میں آکر محفوظ ہو جائیے ﴿ اِنَّهٗ سَمِیْعٌ بے شک وہ سننے والا ہے۔ آپ جو کچھ کہتے ہیں اللہ اسے سنتا ہے۔ ﴿ عَلِیْمٌ جاننے والا ہے۔ آپ کی نیت، آپ کی کمزوری اور آپ کی پناہ لینے کی قوت کو خوب جانتا ہے، وہ آپ کو اس کے فتنے سے محفوظ رکھے گا اور آپ کو اس کے وسوسوں سے بچائے گا۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿قُ٘لْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِۙ۰۰مَلِكِ النَّاسِۙ۰۰اِلٰهِ النَّاسِۙ۰۰مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ١ۙ۬ الْؔخَنَّاسِ۪ۙ۰۰الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِۙ۰۰مِنَ الْؔجِنَّةِ وَالنَّاسِ۰۰ (الناس: 114؍1-6) کہو میں پناہ مانگتا ہوں لوگوں کے رب کی، لوگوں کے بادشاہ حقیقی کی، لوگوں کے معبود کی، شیطان وسوسہ انداز کی برائی سے، شیطان پیچھے ہٹ جانے والے سے جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ اندازی کرتا ہے خواہ وہ شیطان جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: أيَّ وقت وفي أيِّ حال، {ينزغنَّك من الشيطان نزغٌ}؛ أي: تحس منه بوسوسةٍ وتثبيطٍ عن الخير أو حثٍّ على الشرِّ وإيعازٍ إليه، {فاستعذْ بالله}؛ أي: التجئ واعتصم بالله واحتم بحماه. فإنَّه سميعٌ لما تقول، {عليمٌ}: بنيَّتك وضعفك وقوة التجائك له فسيحميك من فتنته ويقيك من وسوسته؛ كما قال تعالى: {قل أعوذُ بربِّ الناس ... } إلى آخر السورة.