پھر شیطان نے ان دونوں کے لیے وسوسہ ڈالا، تاکہ ان کے لیے ظاہر کر دے جو کچھ ان کی شرم گاہوں میں سے ان سے چھپایا گیا تھا اور اس نے کہا تم دونوں کے رب نے تمھیں اس درخت سے منع نہیں کیا مگر اس لیے کہ کہیں تم دونوں فرشتے بن جاؤ، یا ہمیشہ رہنے والوں میں سے ہو جاؤ۔
En
تو شیطان دونوں کو بہکانے لگا تاکہ ان کی ستر کی چیزیں جو ان سے پوشیدہ تھیں کھول دے اور کہنے لگا کہ تم کو تمہارے پروردگار نے اس درخت سے صرف اس لیے منع کیا ہے کہ کہ تم فرشتے نہ بن جاؤ یا ہمیشہ جیتے نہ رہو
پھر شیطان نے ان دونوں کے دلوں میں وسوسہ ڈاﻻ تاکہ ان کی شرمگاہیں جو ایک دوسرے سے پوشیده تھیں دونوں کے روبرو بے پرده کردے اور کہنے لگا کہ تمہارے رب نے تم دونوں کو اس درخت سے اور کسی سبب سے منع نہیں فرمایا، مگر محض اس وجہ سے کہ تم دونوں کہیں فرشتے ہوجاؤ یا کہیں ہمیشہ زنده رہنے والوں میں سے ہوجاؤ
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
آدم علیہ السلام اور ان کی بیوی نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی پابندی کی، یہاں تک کہ ان کا دشمن ابلیس اپنے مکر و فریب سے ان کے پاس گھس آیا اور اس نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا، ان کو فریب میں مبتلا کر دیا اور ان کے سامنے بناوٹ سے کام لیتے ہوئے کہنے لگا: ﴿ مَانَهٰؔىكُمَارَبُّكُمَاعَنْهٰؔذِهِالشَّجَرَةِاِلَّاۤاَنْتَكُوْنَامَلَكَیْنِ ﴾”تم کو نہیں روکا تمھارے رب نے اس درخت سے مگر اس لیے کہ کہیں تم ہو جاؤ فرشتے“ یعنی فرشتوں کی جنس میں سے ﴿اَوْتَكُوْنَامِنَالْخٰؔلِدِیْنَ ﴾”یا ہو جاؤ ہمیشہ رہنے والوں میں سے“ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری آیت میں فرمایا: ﴿ هَلْاَدُلُّكَعَلٰىشَجَرَةِالْخُلْدِوَمُلْكٍلَّایَبْلٰى ﴾ (طٰہ: 20؍120) ”کیا میں تجھے ایسا درخت بتاؤں جس کا پھل ہمیشہ کی زندگی عطا کرے اور ایسا اقتدار جو کبھی زائل نہ ہو۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فلم يزالا ممتثلينِ لأمر الله حتى تغلغل إليهما عدوُّهما إبليس بمكره، فوسوس لهما وسوسةً خدَعَهما بها وموَّه عليهما وقال: {ما نهكُما ربُّكما عن هذه الشجرة إلَّا أن تكونا مَلَكَيْن}؛ أي: من جنس الملائكة، {أو تكونا مِنَ الخالدينَ}: كما قال في الآية الأخرى: {هل أدُلُّكَ على شجرةِ الخُلْدِ وملكٍ لا يَبْلى}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔