تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
مگر معاملہ اس کے برعکس ہے، انھوں نے ان ہستیوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا دیا ﴿ مَالَایَخْلُ٘قُشَیْـًٔـاوَّهُمْیُخْلَقُوْنَوَلَایَسْتَطِیْعُوْنَ۠لَهُمْ﴾”جو پیدا نہ کریں کوئی چیز بھی اور وہ پیدا ہوئے ہیں اور نہیں کر سکتے وہ ان کے لیے“ یعنی اپنے عبادت گزاروں کے لیے ﴿ نَصْرًاوَّلَاۤاَنْفُسَهُمْیَنْصُرُوْنَ﴾”مدد اور نہ اپنی ہی مدد کریں “ کسی کی مدد کرنے کی طاقت رکھتے ہیں نہ خود اپنی مدد کر سکتے ہیں۔
جب (شریک ٹھہرائی ہوئی اس ہستی کی) یہ حالت ہو کہ وہ پیدا نہ کر سکتی ہو، ایک ذرہ بھی پیدا کرنے پر قادر نہ ہو بلکہ وہ خود مخلوق ہو اور وہ اپنے عبادت گزار سے کسی تکلیف دہ چیز کو دور کرنے کی طاقت نہ رکھتی ہو بلکہ خود اپنی ذات سے بھی کسی تکلیف دہ چیز کو دور کرنے پر قادر نہ ہو تو بھلا اس کو اللہ کے ساتھ کیسے معبود بنایا جا سکتا ہے؟ بلاشبہ یہ سب سے بڑا ظلم اور سب سے بڑی حماقت ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولكنَّ الأمر جاء على العكس، فأشركوا بالله {مالا يَخْلُقُ شيئاً وهم يُخْلَقونَ. ولا يستطيعون لهم}؛ أي: لعابديها {نصراً ولا أنفسَهم ينصرونَ}: فإذا كانت لا تخلق شيئاً ولا مثقال ذرَّة، بل هي مخلوقة، ولا تستطيع أن تدفع المكروه عن من يعبُدُها ولا عن أنفسها؛ فكيف تُتَّخذ مع الله آلهة؟! إنْ هذا إلا أظلم الظلم وأسفه السفه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔