تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 171

وَ اِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَہُمۡ کَاَنَّہٗ ظُلَّۃٌ وَّ ظَنُّوۡۤا اَنَّہٗ وَاقِعٌۢ بِہِمۡ ۚ خُذُوۡا مَاۤ اٰتَیۡنٰکُمۡ بِقُوَّۃٍ وَّ اذۡکُرُوۡا مَا فِیۡہِ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴿۱۷۱﴾٪
اور جب ہم نے پہاڑ کو ہلا کر ان کے اوپر اٹھایا، جیسے وہ ایک سائبان ہو اور انھوں نے یقین کر لیا کہ وہ ان پر گرنے والا ہے۔ جو کچھ ہم نے تمھیں دیا ہے اسے قوت کے ساتھ پکڑو اور جو کچھ اس میں ہے اسے یاد کرو، تاکہ تم بچ جاؤ۔ En
اور جب ہم نے ان (کے سروں) پر پہاڑ اٹھا کھڑا کیا گویا وہ سائبان تھا اور انہوں نے خیال کیا کہ وہ ان پر گرتا ہے تو (ہم نے کہا کہ) جو ہم نے تمہیں دیا ہے اسے زور سے پکڑے رہو۔ اور جو اس میں لکھا ہے اس پر عمل کرو تاکہ بچ جاؤ
En
اور وه وقت بھی قابل ذکر ہے جب ہم نے پہاڑ کو اٹھا کر سائبان کی طرح ان کے اوپر معلق کر دیا اور ان کو یقین ہوگیا کہ اب ان پر گرا اور کہا کہ جو کتاب ہم نے تم کو دی ہے اسے مضبوطی کے ساتھ قبول کرو اور یاد رکھو جو احکام اس میں ہیں اس سے توقع ہے کہ تم متقی بن جاؤ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوْۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمْ گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰؔكُمْ بِقُوَّةٍ پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذْكُرُوْا مَا فِیْهِ اور یاد رکھو جو اس میں ہے درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ شاید کہ تم بچ جاؤ۔ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم قال تعالى: {وإذ نَتَقْنا الجبل فوقَهم}: حين امتنعوا من قَبول ما في التوراة، فألزمهم الله العمل، وَنَتقَ فوق رؤوسهم الجبل، فصار فوقهم: {كأنه ظُلَّة وظنُّوا أنه واقعٌ بهم}، وقيل لهم: {خذوا ما آتيناكم بقوَّةٍ}؛ أي: بجدٍّ واجتهاد. {واذكُروا ما فيه}: دراسة ومباحثة واتصافاً بالعمل به، {لعلَّكم تتَّقون}: إذا فعلتُم ذلك.