تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 156

وَ اکۡتُبۡ لَنَا فِیۡ ہٰذِہِ الدُّنۡیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الۡاٰخِرَۃِ اِنَّا ہُدۡنَاۤ اِلَیۡکَ ؕ قَالَ عَذَابِیۡۤ اُصِیۡبُ بِہٖ مَنۡ اَشَآءُ ۚ وَ رَحۡمَتِیۡ وَسِعَتۡ کُلَّ شَیۡءٍ ؕ فَسَاَکۡتُبُہَا لِلَّذِیۡنَ یَتَّقُوۡنَ وَ یُؤۡتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ بِاٰیٰتِنَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۵۶﴾ۚ
اور ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی لکھ دے اور آخرت میں بھی، بے شک ہم نے تیری طرف رجوع کیا۔ فرمایا میرا عذاب، میں اسے پہنچاتا ہوں جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت نے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے سو میں اسے ان لوگوں کے لیے ضرور لکھ دوں گا جو ڈرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور (ان کے لیے) جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں۔ En
اور ہمارے لیے اس دنیا میں بھی بھلائی لکھ دے اور آخرت میں بھی۔ ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔ فرمایا کہ جو میرا عذاب ہے اسے تو جس پر چاہتا ہوں نازل کرتا ہوں اور جو میری رحمت ہے وہ ہر چیز کو شامل ہے۔ میں اس کو ان لوگوں کے لیے لکھ دوں گا جو پرہیزگاری کرتے اور زکوٰة دیتے اور ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں
En
اور ہم لوگوں کے نام دنیا میں بھی نیک حالی لکھ دے اور آخرت میں بھی، ہم تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں اپنا عذاب اسی پر واقع کرتا ہوں جس پر چاہتا ہوں اور میری رحمت تمام اشیا پر محیط ہے۔ تو وه رحمت ان لوگوں کے نام ضرور لکھوں گا جو اللہ سے ڈرتے ہیں اور زکوٰة دیتے ہیں اور جو ہماری آیتوں پر ایمان ﻻتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

موسیٰ علیہ السلام نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكْتُبْ لَنَا فِیْ هٰؔذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةً اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِی الْاٰخِرَةِ اور آخرت میں یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدْنَاۤ اِلَیْكَ ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِیْۤ اُصِیْبُ بِهٖ مَنْ اَشَآءُ میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحْمَتِیْ وَسِعَتْ كُ٘لَّ٘ شَیْءٍ اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَیُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ﴿ وَالَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِنَا یُؤْمِنُوْنَ اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وقال موسى في تمام دعائه: {واكتبْ لنا في هذه الدنيا حسنةً}: من علم نافع ورزق واسع وعمل صالح، {وفي الآخرة}: حسنة، وهي ما أعد الله لأوليائه الصالحين من الثواب. {إنَّا هُدْنا إليك}؛ أي: رجعنا مقرِّين بتقصيرنا منيبين في جميع أمورنا، {قال} الله تعالى: {عذابي أصيبُ به من أشاءُ}: ممَّن كان شقيًّا متعرضاً لأسبابه، {ورحمتي وسعتْ كلَّ شيء}: من العالم العلويِّ والسفليِّ؛ البر والفاجر، المؤمن والكافر؛ فلا مخلوق إلا وقد وصلت إليه رحمة الله وغمره فضله وإحسانه، ولكن الرحمة الخاصة المقتضية لسعادة الدنيا والآخرة ليست لكل أحد، ولهذا قال عنها: {فسأكتُبها للذين يتَّقون}: المعاصي صغارها وكبارها، {ويؤتون الزَّكاة}: الواجبة مستحقيها، {والذين هم بآياتنا يؤمنون}.