تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 149

وَ لَمَّا سُقِطَ فِیۡۤ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ رَاَوۡا اَنَّہُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ۙ قَالُوۡا لَئِنۡ لَّمۡ یَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا وَ یَغۡفِرۡ لَنَا لَنَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ ﴿۱۴۹﴾
اور جب وہ پشیمان ہوئے اور انھوں نے دیکھا کہ وہ تو گمراہ ہوگئے ہیں، تو انھوں نے کہا یقینا اگر ہمارے رب نے ہم پر رحم نہ کیا اور ہمیں نہ بخشا تو ہم ضرور ہی خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔ En
اور جب وہ نادم ہوئے اور دیکھا کہ گمراہ ہوگئے ہیں تو کہنے لگے کہ اگر ہمارا پروردگار ہم پر رحم نہیں کرے گا اور ہم کو معاف نہیں فرمائے گا تو ہم برباد ہوجائیں گے
En
اور جب نادم ہوئے اور معلوم ہوا کہ واقعی وه لوگ گمراہی میں پڑ گئے تو کہنے لگے کہ اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہ کرے اور ہمارا گناه معاف نہ کرے تو ہم بالکل گئے گزرے ہو جائیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَلَمَّا اور جب یعنی جب موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِیْۤ اَیْدِیْهِمْ پچھتائے یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوْا اَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوْا اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوْا لَىِٕنْ لَّمْ یَرْحَمْنَا رَبُّنَا اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَیَغْفِرْ لَنَا اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰؔسِرِیْنَ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ولمَّا}: رجع موسى إلى قومه، فوجدهم على هذه الحال، وأخبرهم بضلالهم؛ ندموا، و {سُقِطَ في أيديهم}؛ أي: من الهمِّ والندم على فعلهم، {ورأوا أنَّهم قد ضلُّوا}: فتنصَّلوا إلى الله وتضرَّعوا، {وقالوا لئن لم يرحَمْنا ربُّنا}: فيدُّلنا عليه، ويرزقنا عبادته، ويوفِّقُنا لصالح الأعمال، {ويغفِرْ لنا}: ما صدر منا من عبادة العجل؛ {لَنَكونَنَّ من الخاسرينَ}: الذين خسروا الدنيا والآخرة.