فرمایا اے موسیٰ ! بے شک میں نے تجھے اپنے پیغامات اور اپنے کلام کے ساتھ لوگوں پر چن لیا ہے، پس لے لے جو کچھ میں نے تجھے دیا ہے اور شکر کرنے والوں میں سے ہو جا۔
En
(خدا نے) فرمایا موسیٰ میں نے تم کو اپنے پیغام اور اپنے کلام سے لوگوں سے ممتاز کیا ہے۔ تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو اور (میرا) شکر بجالاؤ
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰ علیہ السلام دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَیٰمُوْسٰۤىاِنِّیاصْطَفَیْتُكَعَلَىالنَّاسِ ﴾”اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔“ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰ٘تِیْ ﴾”اپنی رسالت کے لیے“ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں۔ ﴿ وَبِكَلَامِیْ ﴾”اور اپنے کلام کے لیے“ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰ علیہ السلام کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں۔
﴿فَخُذْمَاۤاٰتَیْتُكَ ﴾”تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔“ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُ٘نْمِّنَالشّٰكِرِیْنَ ﴾”اور (میرا) شکر بجالاؤ۔“ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فلما منعه الله من رؤيته بعدما كان متشوقاً إليها؛ أعطاه خيراً كثيراً، فقال: {يا موسى إنِّي اصطفيتُك على الناس}؛ أي: اخترتك واجتبيتك وفضَّلتك وخصصتك بفضائل عظيمة ومناقب جليلة، {برسالاتي}: التي لا أجعلها ولا أخصُّ بها إلا أفضل الخلق، {وبكلامي}: إيَّاك من غير واسطة، وهذه فضيلة اختُصَّ بها موسى الكليم، وعُرِف بها من بين إخوانه من المرسلين، {فخُذْ ما آتيتُك}: من النعم، وخذ ما آتيتُك من الأمر والنهي بانشراح صدرٍ، وتلقَّه بالقَبول والانقياد، {وكن من الشاكرين}: لله على ما خصَّك وفضَّلك.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔