تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 124

لَاُقَطِّعَنَّ اَیۡدِیَکُمۡ وَ اَرۡجُلَکُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّکُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿۱۲۴﴾
یقینا میں ضرور تمھارے ہاتھ اور تمھارے پائوں مخالف سمت سے بری طرح کاٹوں گا، پھر یقینا تم سب کو ضرور بری طرح سولی دوں گا۔ En
میں (پہلے تو) تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا پھر تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا
En
میں تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹوں گا۔ پھر تم سب کو سولی پر لٹکا دوں گا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿لَاُقَ٘طِّ٘عَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمْ پھر تم کو سولی دوں گا۔ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجْمَعِیْن سب کو۔ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{لأقطِّعنَّ أيديَكم وأرجلَكم من خلافٍ}: زعم الخبيثُ أنَّهم مفسدون في الأرض، وسيصنع بهم ما يُصنع بالمفسدين من تقطيع الأيدي والأرجل من خلافٍ؛ أي: اليد اليمنى والرجل اليسرى، {ثم لأصَلِّبَنَّكُم}: في جذوع النخل؛ لتختَزوا بزعمه {أجمعينَ}؛ أي: لا أفعل هذا الفعل بأحدٍ دون أحدٍ، بل كلُّكم سيذوق هذا العذاب.